مگرؔ جن لوگوں کے زبانی وہ شعر جمع کئے گئے تھے ان کی درایت اور روایت ہرگز قابل اعتماد نہیں۔ باوا صاحب کے ہاتھ
سے جو چیز آج تک دست بدست چلی آتی ہے اور جو ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے گھر میں پائی گئی وہ فقط چولہ صاحب ہے ہریک منصف کو چاہئے کہ اگر باوا صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت
دریافت کرنا ہے تو اس بارہ میں چولہ صاحب کی شہادت قبول کرے کہ باوا صاحب کا چولہ باوا صاحب کا قائم مقام ہے ہاں دوسری موافق شہادتیں جو گرنتھ وغیرہ سے ملتی ہیں وہ بھی کچھ تھوڑی
نہیں ہیں مگر چولہ صاحب بہرحال سب سے مقدّم اور زندہ گواہ ہے۔
باوانانک صاحب کے اسلام پر خلاصہ دلائل
ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب وید کی خراب تعلیموں کو دیکھ کر بالکل
اس سے دست بردار ہوگئے تھے اور ہمیں غور کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ باوا نانک صاحب کی زندگی تین زمانوں پر مشتمل تھی اور وہ فوت نہیں ہوئے جب تک تیسرا زمانہ اپنی زندگی کا نہ
پالیا۔
)ا( پہلا زمانہ وہ تھا کہ جب وہ رسم اور تقلید کے طور پر ہندو کہلاتے تھے۔ پس اس زمانہ کے شبد یعنی شعر اُن کے اگر ہندو مذہب کے مناسب حال ہوں تو کچھ بعید نہ ہوگا۔
)۲( اور
دوسرا زمانہ باوانانک صاحب پر وہ آیا جبکہ وہ ہندو مذہب سے قطعاً بیزار ہوگئے۔ اور وید کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے سو وہ تمام شعر ان کے جو ویدوں کی مذمت میں ہیں درحقیقت اسی زمانہ
کے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس دوسرے زمانہ میں باوا صاحب کو اسلام سے بھی کچھ ایسا تعلق نہیں تھا کیونکہ ابھی ان کا گیان اس درجہ تک نہیں پہنچا تھا جس سے وہ الٰہی دین کی روشنی کو پہچان
سکتے بلکہ اس مرتبہ میں ان کی معرفت کچھ دُھندلی سی اور ابتدائی درجہ میں تھی۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اس دوسرے مرحلہ میں ایسی باتیں بھی کہی ہوں یا ایسے
شعر بھی بنائے ہوں جو کامل سچائی کے مخالف ہوں )۳( تیسرا زمانہ باوا صاحب پر وہ آیا جبکہ ان کی معرفت کامل ہوگئی تھی اور وہ جان چکے تھے کہ پہلے خیالات میرے خطا سے خالی نہ
تھے