زندؔ ہ گواہ ہے اور اسی کو باوا صاحب اپنے مذہب اور ملت کی یادگار چھوڑ گئے اور اگر ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے گھر میں سے ان کی طریق زندگی کا نشان برآمد ہوا تو یہی چولہ برآمد ہوا کوئی گرنتھ کی جزبر آمد نہیں ہوئی بلکہ دو سو تین سو برس بعد عوام الناس کی زبانی اکٹھا کیا گیا پس جب کہ ایک برس کے فرق سے بھی ہزاروں تغیر اور تبدل پیدا ہو جاتے ہیں پھر دو سو تین سو برس کے فرق کے بعد کیا کچھ تغیرات اور تحریفات نہیں ہوئے ہوں گے اور یاد رہے کہ دو سو برس کے بعدمیں جمع کیا جانا ان گورؤں کے شعروں کی نسبت ہے جو گورو ارجن داس صاحب سے پہلے گذر چکے لیکن جو گورو۔ گورو ارجن داس صاحب کے بعد آئے ان کے اشعار تو قریباً تین سو برس کے بعد میں لکھے گئے ہوں گے اور اب تک ٹھیک پتہ نہیں کہ وہ کس نے لکھے اور ان کا جمع کرنا گورو ارجن داس کی طرف کیوں منسوب کیا گیا کیونکہ گورو ارجن داس صاحب تو ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے پھر عجیب تر یہ کہ ان شعروں کے آخر میں بھی نانک کا لفظ لگایا گیا اور صدہا شعر باوا نانک صاحب کے ایسے ترک کئے گئے اور گرنتھ میں نہیں لکھے گئے جن میں باوا صاحب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف اور اسلام کی تعریف اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے۔ چنانچہ چشتی سلسلہ کے لوگ جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا اب تک ان شعروں کو یاد کرتے اور پڑھتے ہیں۔ ان تمام امور پر نظر ڈال کر ایک حق کا طالب جلد سمجھ سکتا ہے کہ باوا نانک صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت دریافت کرنے کیلئے صرف موجودہ گرنتھ پر مدار رکھنا سخت غلطی ہے۔ اس کو کون نہیں جانتا کہ موجودہ گرنتھ کی صحت کے بارہ میں بہت سی پیچیدگیاں اور دقتیں واقع ہوگئی ہیں اور وہ تمام اشعار دو تین سو برس تک ایک پوشیدگی کے گہرے پانی میں غوطہ لگانے کے بعد پھر ایسے زمانہ میں ظاہر ہوئے جس میں سکھ صاحبان کے اصل مذہب کا رنگ بدل چکا تھا اور وہ اپنی اس حالت میں اس قسم کے شعر ہرگز جمع نہیں کر سکتے تھے جن میں باوا صاحب کے مسلمان ہونے کی تصریحات تھیں اور ایسے بے ثبوت اور بے سند طور پر وہ جمع کئے گئے کہ جن میں جعلسازوں کو بہت کچھ خلط ملط کرنے کا موقعہ تھا گورو ارجن داس صاحب کی گو کیسے ہی نیک نیت ہو