تارؔ دو کہ قریب ہے جو ڈوب جائیں۔ پھر صفحہ ۳۲۸ گرنتھ میں فرماتے ہیں۔
ہم پاپی ِ نرگن کو گن کرے پربھ ہوئے دیال
نانک جن ترے
یعنی ہم بڑے گنہگار ہیں کوئی نیکی نہیں کیا نیکی کریں خدافضل کرے توتب ہم تریں یعنی نجات پاویں۔ اسی طرح چولہ صاحب میں یہ لکھا ہوا موجود ہے
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد
انّ محمدًا عبدہ و رسولہٗ
یعنی اے خدا تو پاک ہے تیرے سوا اور کوئی نہیں میں ظالموں میں سے تھا اور اب میں گوا ہی دیتا ہوں کہ سچا خدا اللہ ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی
دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہے۔ اب دیکھو کہ کس تضرع اور عاجزی سے باوانانک صاحب اپنے گناہوں کا اقرار کر کے صاف کہتے ہیں کہ میں پہلے اس سے ظالم تھا اور اب میں
مانتا ہوں کہ اللہ سچ اور محمدؐ اس کا رسول برحق ہے۔ سو ان کے اس تمام بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوائل زمانہ میں اس معرفت سے بے خبر تھے کہ دین الٰہی دین اسلام ہے اگرچہ وہ
تعصب سے ہمیشہ دور رہے اور خدا تعالیٰ نے ان کا دل ہندوؤں کے تعصب سے خالی پیدا کیا تھا اور حق کی طلب ہوش پکڑتے ہی ان کو دامنگیر ہوگئی تھی مگر بشری غفلت کی وجہ سے اوائل ایام میں
اس زندگی کے چشمہ سے بے خبر تھے جس کا نام اسلام ہے اس لئے کچھ تعجب کی بات نہیں کہ وہ پہلے دنوں میں اپنے شعروں میں ایسے خیالات ظاہر کرتے ہوں جو اسلام کے مخالف ہوں اور
تکذیب کے رنگ میں ہوں مگر جب ان کو یہ سمجھ آگئی کہ درحقیقت اسلام ہی سچا ہے اور فی الواقعہ حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سچے پیغمبر اور خدا کے پیارے ہیں تب تو
انہوں نے اپنی پہلی زندگی کا چولہ اتار دیا اور اسلامی چولہ پہن لیا اور یہ چولہ جو اب تک کابلی مل کی اولاد میں چلا آتا ہے یہ درحقیقت طرز زندگی کے تبدیل کرنے کا نشان ہے پہلا چولہ انکار کا
اتار کر اور آگ میں جلا کر یہ چولہ اقرار کا خدا تعالیٰ کے فضل نے ان کو پہنا دیا جو اب تک چار سو برس سے موجود ہے اور باوا صاحب کی آخری عمر کی سوانح کا ایک