تناسخؔ کی جو قرآن میں بیان ہے یہ ہے جو انسانی نطفہ ہزارہا تغیرات کے بعد پھر نطفہ کی شکل بنتا ہے مثلاً اول گندم کا دانہ ہوتا ہے اور ہزاروں برس اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ زمیندار اس کو زمین میں بوتا ہے اور وہ سبزہ کی شکل پر ہوکر زمین سے نکلتا ہے آخر دانہ بن جاتا ہے پھر کسی وقت زمیندار اس کو بوتا ہے اور پھر سبزہ بنتا ہے اسی طرح صدہا سال ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور ہزارہا قالب میں وہ دانہ آتا ہے یہاں تک کہ اس کے انسان بننے کا وقت آ جاتا ہے تب اس دانہ کو کوئی انسان کھا لیتا ہے اور اس سے انسانی نطفہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مثنوی رومی میں ہے۔ ہفصد و ہفتاد قالب دیدہ ام بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ام سو باوا صاحب کے کسی شعر میں اگر کوئی اشارہ تناسخ یعنی اواگون کی طرف پایا جاتا ہے سو وہ اشارہ درحقیقت ان تین تناسخوں میں سے کسی تناسخ کی طرف ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے*۔ نہ اس وید والے تناسخ کی طرف جس کیلئے ضرور ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے خالق ہونے سے انکار کرے اور نجات کو ابدی نہ سمجھے اور خدا تعالیٰ کی نسبت یہ عقیدہ رکھے کہ وہ گنہ نہیں بخشتا۔ اور کسی کی توبہ قبول نہیں کرتا اور کسی پر رحم نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ باوا صاحب ایسے گندے عقیدوں سے سخت بیزار تھے وہ خدا تعالیٰ کو روحوں اور جسموں کا پیدا کنندہ جانتے تھے اور نجات ابدی پر اعتقاد رکھتے تھے اور اللہ جلّ شانہٗ کو گناہ بخشنے والا یقین رکھتے تھے اور اُن کا یہ صاف اور کھلا کھلا عقیدہ تھا کہ انسان بیل۔ گدھا ایسا ہی ہریک جاندار خدا تعالیٰ نے آپ اپنی مرضی سے اور اپنے ارادہ سے پیدا کیا ہے اور کوئی روح قدیم نہیں بلکہ تمام روحیں اسی کی پیدائش ہیں۔ پھر اس عقیدہ والا آدمی ہندوؤں کے اواگون کو ماننے والا کیونکر ہو سکتا ہے۔ دیکھو باوا صاحب فرماتے ہیں۔ سو کیوں منو وسارئی جا کے جیا پران ِتس وِن سب اپو ّ تر ہے جیتا پہنن کھان یعنی اسکوکیوں دل سے فراموش کرتاہے جسکی پیدائش روح اورجسم ہے اس کے بغیر تمام کھانا پہننا ناپاک ہے اب دیکھو باوا صاحب اس شعر میں صاف اقرار کرتے ہیں کہ جیو اور جسم دونوں خداتعالیٰ کی پیدائش اور اسکی ملکیت ہیں مگر تناسخ والے تو ایسا نہیں کہتے۔ اس سے تو انکا تناسخ ٹوٹتا ہے۔