تمامؔ نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل میں سے نکال نہ دیوے تب تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے اور اہل باطن کشفی نظر سے معلوم کر جاتے ہیں کہ وہ اپنے کسی مقام نفس پرستی میں مثلاً بیل سے مشابہ ہوتا ہے یا گدھے سے یا ُ کتے سے یا کسی اور جانور سے اور اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک جون بدل کر دوسری جون میں آتا رہتا ہے ایک جون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے۔ اسی طرح اس زندگی میں ہزارہا موتیں اس پر آتی ہیں اور ہزارہا جونیں اختیار کرتا ہے اور اخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر انسان کی جون اس کو ملتی ہے اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سؤر بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہوگئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوء روں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہوگئے تھے۔ غرض یہ قسم تناسخ کی اسی دنیا کی زندگی کے غیر منقطع سلسلہ میں شروع ہوتی ہے اور اسی میں ختم ہو جاتی ہے اور اس میں مرنا اور جینا اور آنا اور جانا ایک حکمی امر ہوا کرتا ہے نہ واقعی اور حقیقی ۔اور دوسری قسم تناسخ کی وہ ہے جو قیامت کے دن دوزخیوں کو پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک دوزخی جس گندے جذبہ میں گرفتار ہوگا اسی کے مناسب حال کسی حیوان کی صورت بنا کر اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا مثلاً جو لوگ شکم پرستی کی وجہ سے خدا سے دور پڑگئے وہ ُ کتوں کی شکل میں کر کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو لوگ شہوت کے جماع کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردان ہوگئے۔ وہ سؤروں کی شکل میں دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جن لوگوں نے نافرمانی کر کے بہت سے حیوانوں کے ساتھ مشابہت پیدا کرلی تھی وہ بہت سی جونوں میں پڑیں گے اس طرح پر کہ ایک جون کو ایسی حالت میں ختم کر کے جو موت سے مشابہ ہے دوسری جون کا چولہ پہن لیں گے۔ اسی طرح ایک جون کے بعد دوسری جون میں آئیں گے اور نہ ایک موت بلکہ ہزاروں موتیں ان پر آئیں گی۔ اور وہ موتیں وہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ثبورکثیرکے لفظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے۔ مگر مومنوں پر بجز ایک موت کے جو موتۃ اولٰی ہے اور کوئی موت نہیں آئے گی۔ تیسری قسم