پھرؔ ایک اور شعر میں فرماتے ہیں جس کے جیا پران ہیں من و ّ سےُ سکھ ہو۔ یعنی جس کی پیدائش روح اور جسم ہیں وہ دل
میں آباد ہو تو راحت اور آرام ہو۔ غرض باوا صاحب وید والے تناسخ کے قائل نہ تھے صرف اس تناسخ کے قائل تھے جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وید والے تناسخ کا قائل بجز دہریہ اور نیم دہریہ کے
اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
پھراڈیٹر صاحب پرچہ خالصہ بہادر جنم ساکھی کے چند شعر لکھ کر ان سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ باوا نانک صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے
نہیں تھے۔ بلکہ مکذب تھے اور وہ شعر یہ ہیں۔
ِلکھ محمد ؐ ایک خدا الکھ سچا بے پروا کئی محمد کھڑے دربار شمار نہ پاویں بے شمار
رسول رسال دنیا میں آیا جب چاہا تب پھیر منگایا یونہی کہا
ہے نانک بندے پاک خدا اور سب گندے
اب میں سوچ میں ہوں کہ اڈیٹر صاحب نے ان اشعار کو کیوں پیش کر دیا۔ اگر ان کی اس مصرعہ پر نظر ہے کہ ’’پاک خدا اور سب گندے‘‘ تو اس سے لازم
آتا ہے کہ نانک صاحب بھی گندے ہی تھے۔ کیونکر اگر بجز خدا تعالیٰ کے تمام بندے گندے ہی ہیں تو اس قاعدہ کلیہ سے نانک صاحب بھی باہر نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ بھی بندہ ہی ہیں۔ نانک صاحب خدا
تو نہیں ہیں۔ تا پاک ہوں افسوس کہ آڈیٹر صاحب نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بغض کی وجہ سے باوا نانک صاحب کی عزت اور راستبازی کا بھی کچھ خیال نہیں کیا۔ اللہ اللہ!!! ُ بغض اور
تعصب بھی کیسی ُ بری بلا ہے۔ جس سے انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہوا نہیں سنتا اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا۔اڈیٹر صاحب آپ خوب یاد رکھیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں جو آپ سمجھے*
ہیں۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ حقیقی چشمہ پاکی اور پاکیزگی کا خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے اور راست بازوں کو پاکی اور پاکیزگی خدا سے ہی ملتی ہے ورنہ انسان کی حقیقت پر اگر نظر کریں تو وہ ایک
ناکارہ بوند سے پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ ہیچ محض ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عنایتیں اس کے مقبول بندوں کو پاک کرتی ہیں خدا تعالیٰ کا تمام وجود انسان کے فائدہ کیلئے ہے لہٰذا خدا تعالیٰ کی پاکی بھی انسان
کے