اصطلاؔ حی الفاظ کے نیچے اس کو لکھتے ہیں کہ آسا پہلا محلہ یا گوڑی پہلا محلہ مگر چونکہ گرنتھ کے اشعار باوا
صاحب سے دو سو برس بعد بلکہ اس کے پیچھے بھی لکھے گئے ہیں اور ان کے جمع کرنے کے وقت کوئی ایسی تنقید اور تحقیق نہیں ہوئی کہ جو تسلی بخش ہو لہٰذا ضرورت نہیں کہ بغیر باضابطہ
تحقیق کے خواہ نخواہ قبول کئے جائیں بلکہ تناقض کے وقت وہ حصہ اشعار کا ہرگز قابل پذیرائی نہیں ہوسکتا جو ایسے دوسرے حصہ کا نقیض پڑا ہو جس کی صحت مختلف طریقوں اور انواع اقسام
کے قرینوں اور یقینی اور قطعی شواہد کی تائیدسے بپایہ ثبوت پہنچ گئی ہو۔ مگر تاہم سکھ صاحبوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ایسے اشعار جو گرنتھ کے پہلے محلہ میں لکھے گئے ہیں قریباً وہ سارے
ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اسلامی تعلیم سے مخالف نہیں اور نہ ان میں کوئی لفظ تکذیب اور توہین اسلام کا موجود ہے بلکہ وہ اسلامی تعلیم سے عین موافق ہیں اور اگر کوئی کسی شعر کو
اسلامی تعلیم کے مخالف سمجھے یا اس میں کوئی توہین کا لفظ خیال کرے تو یہ اُس کے فہم کی غلطی ہے۔ ہاں اگر شاذ و نادر کے طور پر کوئی ایسا شعر ہو بھی جو الحاق کے طور پر عمداً یا سہواً ان
سے ملایا گیا ہو تو ایسا شعر حصہ کثیرہ کے نقیض واقع ہونے کی وجہ سے خود ردی کی طرح ہوگا اور اعتبار سے ساقط ہوگا اور اس کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے نانک صاحب کے دوسرے شعر اور
نیز دوسرے آثار یقینی اور قطعی ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ کسی ایک شعر کے مقابل پر صدہا شعروں اور دوسرے روشن ثبوتوں کا باطل ہونا غیر ممکن ہے بلکہ وہی باطل ٹھہرے گا جو اس قطعی ثبوت کے
مقابل پڑا ہے مگر پھر بھی اس صورت میں کہ اس کے کوئی اچھے معنے نہ ہو سکیں۔
یہ دھوکا بھی رفع کرنے کے لائق ہے کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ باوا نانک صاحب کے بعض اشعار میں
سے تناسخ یعنی اواگون کا مسئلہ پایا جاتا ہے اور یہ اسلامی اصول کے برخلاف ہے سو واضح ہو کہ اسلام میں صرف وہ قسم تناسخ یعنی اواگون کے باطل اور غلط ٹھہرائے گئے ہے جس میں گذشتہ
ارواح کو پھر دنیا کی طرف لوٹایا جاوے لیکن بجز اس کے اور بعض صورتیں تناسخ یعنی اواگون کی ایسی ہیں کہ اسلام نے ان کو روا رکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلامی تعلیم سے ثابت
ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں زندہ موجود ہے جب تک وہ تزکیہ نفس کر کے اپنا سلوک