اور ؔ چالیس روز تک روضہ شاہ شمس تبریز پر چلہ میں بیٹھے اور یہ وہ باتیں ہیں جو ایسی طور پر ثابت ہوگئی ہیں جو حق ثابت ہونے کا ہے پھر اسی پر باوا صاحب نے کفایت نہیں کی بلکہ ان لوگوں کی طرح جو غلبہ عشق میں دیوانہ کی مانند ہو جاتے ہیں۔ چولہ پہنا جس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ ہم باوا صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ ان کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا۔ ان تمام امور سے ثابت ہے کہ باوا نانک صاحب نے دل و جان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کو قبول کیا۔ اور نیز ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں اعلیٰ درجہ کے اولیاء پاک زندگی والے ہوئے ہیں۔ تبھی تو وہ بعض ہندوستان کے اولیاء کی مقابر پر چلہ کشی کرتے رہے۔ اور پھر بغداد میں جاکر سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے روضہ پر خلوت گزین ہوئے۔ اگر باوا صاحب نے اس عظمت اور وقعت کی نظر سے کسی اور مذہب کو بھی دیکھا ہے تو ان تمام واقعات کے مقابل پر وہ واقعات بھی پیش کرنے چاہئے ورنہ یہ امر تو ثابت ہوگیا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو ترک کر کے نہایت صفائی اور صدق سے اسلام میں داخل ہوگئے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیسے زبردست قرائن ننگی تلواریں لے کر آپ کے شبہات کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں تمام واقعات جو ہم نے لکھے ہیں۔ ان کو نظر یک جائی سے دل کے سامنے لاؤ تا اس سچے اور یقینی نتیجہ تک پہنچ جاؤ جو مقدمات یقینیہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ بڑی نادانی ہے کہ کوئی واہیات اور بے سروپا شعر ناحق باوا صاحب کی طرف منسوب کر کے اس کو ایک یقینی امر سمجھ لیں۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کے زمانہ کے بعد متعصب لوگوں نے بعض اقوال افترا کے طور پر ان کی طرف منسوب کر دئیے ہیں۔ گرنتھ کے بعض اشعار اور بعض مضامین جنم ساکھیوں کے نہایت مکروہ جعل سازیوں سے لکھے گئے ہیں اس کی یہ وجہ تھی کہ متعصب لوگوں نے جب دیکھا کہ باوا صاحب کی تحریروں سے تو صاف اور کھلی کھلی ان کا اسلام ثابت ہوتا ہے تو ان کو اسلام کا مخالف ٹھہرانے کیلئے جعلی طور پر بعض شبد آپ بنا کر ان کی طرف منسوب کر دئیے اور جعلی قصے لکھ دئیے اور وہ دو طور کی چالاکی عمل میں لائے ہیں اول ایسے اشعار جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے۔ گرنتھ سے عمداً خارج رکھے حالانکہ چشتی خاندان کے فقراء جن کے سلسلہ میں باوا صاحب مرید تھے اب تک سینہ بہ سینہ