وہیؔ ہیں جن کی بڑی تاثیریں دنیا میں پیدا ہوئیں اور جن کی متابعت سے بڑے بڑے اولیاء ہریک زمانہ میں ہوتے رہے سو وہ جناب سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی امت کی تعداد انگریزوں نے سرسری مردم شماری میں بیس کروڑ لکھی تھی۔ مگر جدید تحقیقات کی رو سے معلوم ہوا ہے کہ دراصل مسلمان روئے زمین پر چورانوے کروڑ ہیں*۔ اور باوا نانک صاحب اس بات کے بھی قائل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بڑے بڑے اولیاء گذرے ہیں۔ تبھی تو باوا صاحب صدق دل سے شیخ معین الدین چشتی صاحب کے روضہ پر چالیس۴۰ دن تک چلہ بیٹھے رہے تا ان کی روح سے برکتیں اور فیض حاصل ہو اور دل صاف ہوکر یاد الٰہی میں حضور پیدا ہو۔ پھر وہاں سے اٹھ کر بمقام سرسہ شیخ عبدالشکور سلمی کے روضہ پر چالیس۴۰ دن تک چلہ نشین رہے اور تسبیح اور نماز اور استغفار اور درود شریف میں مشغول رہے پھر پاک پتن میں باوا فرید صاحب کے روضہ پر چلہ نشین ہوئے پھر مکہ معظمہ میں جاکر فریضہ حج بجالائے اور پھر مدینہ منورہ میں پہنچ کر چاکران حضرت نبوی کے سلسلہ میں سعادت حاصل کی اور مجھے تحقیقی طور پر اس بات کا پتہ نہیں ملا کہ مدینہ منورہ میں کتنی مدت رہے مگر مکہ سے گیارہ دن میں مدینہ منورہ میں پہنچے چنانچہ علاوہ سینہ بسینہ روایتوں کے بالا کی جنم ساکھی میں بھی یہی لکھا ہے۔ پھر مدینہ سے فارغ ہو کر اپنے مرشد خانہ میں بمقام ملتان پہنچے یہ ایک نہایت غلط اور خلاف واقعہ بلکہ بدیہی البطلان بات مشہور تھی کہ مسلمانوں کی تعداد صفحہ دنیا میں صرف بیس۲۰ کروڑ ہے کیونکہ اب جدید تحقیقات سے اور نہایت واضح دلائل اور روشن قرائن سے ثابت ہوگیا ہے کہ دراصل اہل اسلام کی تعداد روئے زمین پر چورانوے۹۴ کروڑ ہے۔ چنانچہ یہی مضمون بعض انگریزی اخبارات میں بھی چھپ گیا ہے اوراس تعداد کی تقسیم اس طرح پر کرتے ہیں۔ آئندہ ہریک کو احتیاط رکھنی چاہئے کہ گزشتہ غلطی پر بھروسہ کر کے مسلمانوں کی تعداد کو صرف بیس کروڑ نہ سمجھ لے کیونکہ یہ جدید تحقیق کوئی نظری اور مشتبہ امر نہیں ہیں بلکہ اس کی وجوہ بہت صاف اور بدیہی اور نظروں کے سامنے ہیں یہ قاعدہ ہے کہ ابتدائی تحقیقاتیں ہمیشہ خام اور ناقص ہوتی ہیں اور آخری تحقیقات ایک محیط اور کامل تحقیقات ہوتی ہے جس سے پہلی غلطیاں نکل جاتی ہیں عقلمند کو چاہئے کہ غلط خیال کو چھوڑ دے۔ منہ برہما اور ہندوستان ۷ کروڑ ملایا اور سیام ۴ کروڑ جزائر شرق الہند ۱۰ کروڑ چین ۶ کروڑ چینی تاتار ۱۰ کروڑ تاتار تبت اور سائبیریا ۲۰ کروڑ افغانستان معہ جمیع حدود ۱۴ کروڑ ایران معہ جمیع متعلقات ۶ کروڑ عرب ایک کروڑ یورپ کے مختلف حصص بلغاریہ ہنگریآسٹریا ایک کروڑ باقی بلاد افریقہ وغیرہ