انؔ کو یاد رکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی بیاضوں میں اکثر ان کے ایسے اشعار ہیں جن میں بجز مدح و ثناء حضرت محمد
مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم اور اپنے اقرار توحید اور اسلام کے اور کچھ نہیں مگر خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر گرنتھ اور جنم ساکھیوں میں اب تک ایسے اشعار باقی ہیں وہ بھی اس قدر ہیں کہ اگر
چیف کورٹ میں بھی سکھ صاحبان اور مسلمانوں کا یہ مقدمہ پیش ہو تو چیف کورٹ کے ججوں کو یہ ڈگری بحق اہل اسلام صادر کرنی پڑے کہ بے شک باوا نانک صاحب مسلمان تھے۔ اصول تحقیقات میں
یہ قاعدہ مسلم ہے کہ اگر شہادتوں میں تناقض واقع ہو تو وہ شہادتیں قبول کی جائیں گی جن کو غلبہ ہو اور جن کے ساتھ اور ایسے بہت قرائن ہوں جو ان کو قوت دیتے ہوں۔ اسی اصول پر روز مرّہ ہزار
ہا مقدمات عدالتوں میں فیصل ہوتے ہیں۔ اور نہ صرف دیوانی بلکہ خونی مجرم بھی جو اپنی صفائی کے گواہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ثبوت مخالف کے زبردست ہونے کی وجہ سے بلاتامل پھانسی دئیے جاتے
ہیں۔ غرض جو لوگ عقلمند ہوتے ہیں وہ بچوں اور کم عقلوں کی طرح کسی ایسی بیہودہ بات پر تسلّی پذیر نہیں ہو سکتے جو بڑے اور زبردست ثبوتوں کے مخالف پڑی ہو یہ تو ظاہر ہے کہ جب کسی
فریق کو خیانت اور جعلسازی کی گنجائش مل جائے تو وہ فریق ثانی کا حق تلف کرنے کے لئے دقیق در دقیق فریب استعمال میں لاتا ہے اور بسا اوقات جھوٹی اسناد اور جھوٹے تمسکات بنا کر پیش کر
دیتا ہے مگر چونکہ خدا نے عدالتوں کو آنکھیں بخشی ہیں اس لئے وہ اس فریق کے کاغذات پیش کردہ پر آپ غور کرتے ہیں کہ آیا ان میں کچھ تناقض بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر تناقض پایا جائے تو انہیں
باتوں کو قبول کرتے ہیں۔ جن کو غلبہ ہو اور ان کے ساتھ بہت سے قرائنی ثبوت اور تائیدی شہادتیں ہوں۔ اب تمام سکھ صاحبان اس بات پر غور کریں کہ اگر فرض کے طور پر ان کے ہاتھ میں دوچار شبد
ایسے ہیں جو باوا نانک صاحب کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور اسلام کی تکذیب پر مشتمل ہیں اور ان کے وہی معنی ہیں جو وہ کرتے ہیں اور دوسرے معنے کوئی نہیں تو پھر وہ ان بھاری ثبوتوں کے
مقابل پر کیا چیز اور کیا حقیقت ہیں جو سکھ صاحبوں کی انہیں کتابوں سے نکال کر ایک ڈھیر لگا دیا گیا ہے اگر ان کے ہاتھ میں تکذیب اسلام کے بارے میں کوئی شعر ہے جو باوا نانک صاحب کی طرف
منسوب کرتے ہیں تو ہم نے بھی تو وہی کتابیں پیش کی ہیں جو ان کے مسلّم ہیں اپنے گھر سے تو کوئی بات پیش نہیں کی پس غایت درجہ یہ کہ اس ذخیرہ اور ان چند شعروں میں