اشارؔ ہ فرمایا گیا ہے کہ۱؂جیسا کہ اگر آفتاب نہ ہو تو ماہتاب کا وجود بھی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر انبیاء علیہم السلام نہ ہوں جو نفوس کاملہ ہیں تو اولیاء کا وجود بھی حیزّ امکان سے خارج ہے اور یہ قانون قدرت ہے جو آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا ہے چونکہ خدا واحد ہے اس لئے اس نے اپنے کاموں میں بھی وحدت سے محبت کی اور کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ایک وجود سے ہزاروں کو وجود بخشتا رہا۔ سو انبیاء جو افراد کاملہ ہیں وہ اولیاء اور صلحاء کے روحانی باپ ٹھہرے جیسا کہ دوسرے لوگ ان کے جسمانی باپ ہوتے ہیں۔ اور اسی انتظام سے خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں مخلوق پر ظاہر کیا تا اس کے کام وحدت سے باہر نہ جائیں اور انبیاء کو آپ ہدایت دیکر اپنی معرفت کا آپ موجب ہوا اور کسی نے اس پر یہ احسان نہیں کیا کہ اپنی عقل اور فہم سے اس کا پتہ لگا کر اس کو شہرت دی ہو بلکہ اس کا خود یہ احسان ہے کہ اس نے نبیوں کو بھیج کر آپ سوئی ہوئی خلقت کو جگایا اور ہریک نے اس وراء الورا ء اور الطف اور اد ّ ق ذات کا نام صرف نبیوں کے پاک الہام سے سنا اگر خدا تعالیٰ کے پاک نبی دنیا میں نہ آئے ہوتے تو فلاسفر اور جاہل جہل میں برابر ہوتے دانا کو دانائی میں ترقی کرنے کا موقعہ صرف نبیوں کی پاک تعلیم نے دیا اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ جبکہ انسان بچہ ہونے کی حالت میں بغیر تعلیم کے بولی بولنے پر بھی قادر نہیں ہو سکتا۔ تو پھر اس خدا کی شناخت پر جس کی ذات نہایت دقیق در دقیق پڑی ہے کیونکر قادر ہو سکتا ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر باوا صاحب ان پاک نبیوں کو کاذب جانتے تھے۔ جو ابتداء سے ہوتے چلے آئے ہیں جنہوں نے وحدانیت الٰہی سے زمین کو بھر دیا تو باوا صاحب نے خورد سالی کی حالت میں اور ایسا ہی ان کے باپ اور دادا نے اللہ جلّ شانہٗ کا نام کہاں سے سن لیا یہ تو ظاہر ہے کہ باوا صاحب تو کیا بلکہ ان کے باپ بھائی کالو اور دادا صاحب بھائی سوبھا بھی خدا تعالیٰ کے نام سے بے خبر نہ تھے۔ سو اگر باوا صاحب ہی سچی معرفت کے بانی مبانی ہیں تو ان کے وجود سے پہلے یہ پاک نام کیوں مشہور ہوگیا۔ پس اس دلیل سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک لوگ ابتداء سے ہوتے رہے ہیں جو اس سے الہام پاکر اس کی خبر لوگوں کو دیتے رہے مگر سب سے بڑے ان میں سے