صادؔ قوں اور عارفوں کی شہادتوں سے ثابت ہو چکی ہے۔ خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے عقل ناکافی ہے دنیا میں دنیوی علوم
بھی تعلیم کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتے رہے ہیں اور اگر مثلاً ایک کروڑ شیر خوار بچہ کو بھی کسی تہہ خانہ میں تعلیم سے دور رکھ کر پرورش کیا جاوے تو قطع نظر اس سے کہ وہ بچے علوم
طبیعی و طبابت و ہیئت وغیرہ خود بخود سیکھ لیں کلام کرنے سے بھی عاجز رہ جائیں گے اور گنگوں کی طرح ہوں گے اور ان میں سے ایک بھی خودبخود پڑھا لکھا نہیں نکلے گا۔ پھر جبکہ دنیوی علوم
بلکہ علم زبان بھی بغیر تعلیم اورسکھلانے کے نہیں آ سکتے تو اس خدا کا خودبخود پتہ کیونکر لگے جس کا وجود نہایت لطیف اور ایک ذرہ سے بھی دقیق تر اور غیب در غیب اور نہاں در نہاں ہے۔ اس
لئے یہ گمان نہایت سادہ لوحی کا خیال ہے کہ وہ عاجز انسان جو صدہا تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے وہ اس ذات بیچوں اور بیچگوں اور وراء الورا ء اور نہایت پوشیدہ اور الطف اور ادق کو خودبخود دریافت
کرے اور اس سے زیادہ کوئی شرک بھی نہیں کہ انسان جو ایک مرے ہوئے کیڑے کی مانند ہے یہ ُ پرتکبر دعوے کرے کہ میں خود بغیر امداد اس کی چراغ ہدایت کے اس کو دیکھ سکتا ہوں بلکہ قدیم سے
یہ سنت اللہ ہے کہ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے وہ آپ اپنے برگزیدہ بندوں پر اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا رہا ہے اور بغیر ذریعہ خدا کے کوئی خدا تک پہنچ نہیں سکا اور وہی شخص اس کی ہستی پر
پورا یقین لا سکا جس کو خود اس قادر مقتدر ذوالجلال نے اناالموجود کی آواز سے تسلی بخشی اور یا وہ شخص جو ایسی آواز سننے والے کے ساتھ محبت کے پیوند سے یک دل و یکجان ویکرنگ ہوگیا سو
دنیا میں یہ دو ہی طریق ہیں جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے یہی چاہا کہ اس کی مخلوقات یعنی نباتات جمادات حیوانات یہاں تک کہ اجرام علوی
میں بھی تفاوت مراتب پایا جائے اور بعض مفیض اور بعض مستفیض ہوں اس لئے اس نے نوع انسان میں بھی یہی قانون رکھا اور اسی لحاظ سے دو طبقہ کے انسان پیدا کئے۔ اول وہ جو اعلیٰ استعداد
کے لوگ ہیں جن کو آفتاب کی طرح بلاواسطہ ذاتی روشنی عطا کی گئی ہے۔ دوسرے وہ جو درجہ دوم کے آدمی ہیں جو اس آفتاب کے واسطہ سے نور حاصل کرتے ہیں اور خودبخود حاصل نہیں کر
سکتے۔ ان دونوں طبقوں کے لئے آفتاب اور ماہتاب نہایت عمدہ نمونے ہیں جس کی طرف قرآن شریف میں ان لفظوں میں