اخباؔ ر خالصہ بہادر نمبر۶ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء اس اخبار کے ایڈیٹر صاحب کو یہ بات نہایت مستبعد معلوم ہوئی ہے کہ باوانانک صاحب اہل اسلام میں سے تھے۔ اس لئے وہ نہایت سادگی سے فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ باوا صاحب نہ ہندومت کے پابند تھے اور نہ مسلمان تھے بلکہ صرف واحد خدا پر ان کا یقین تھا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ایڈیٹر صاحب کی اس تقریر کا خلاصہ یہی ہے کہ باوا صاحب نہ تو وید کو پرمیشر کی طرف سے جانتے تھے اور نہ قرآن شریف کو ہی منجانب اللہ تسلیم کرتے تھے اور ان دونوں کتابوں میں سے کسی کا بھی الہامی ہونا قبول نہیں کرتے تھے۔ لیکن وید کی نسبت تو یہ قول اڈیٹر صاحب کا بے شک صحیح ہے۔ کیونکہ اگر باوا صاحب وید کے پابند ہوتے تو اپنے شبدوں میں بار بار یہ اقرار نہ کرتے کہ خدا ارواح اور اجسام کا خالق ہے اور نجات جاودانی ہے اور خدا توبہ اور عاجزی کرنے کے وقت گناہ بخش دیتا ہے اور الہام کا دروازہ بند نہیں ہے کیونکہ یہ سب باتیں وید کے اصول کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ چاروں ویدوں کو کہانی یعنی محض یاوہ گوئی قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ چار۴وں وید عارفوں کی راہ سے بے خبر ہیں۔ سو باوا صاحب کی ان تمام باتوں سے بلاشبہ یقینی طور پر کھل گیا ہے کہ باوا صاحب نے ہندو مذہب کو چھوڑ دیا تھا اور ہندوؤں کے وید اور ان کے شاستروں سے سخت بیزار ہوگئے تھے مگر یہ بات صحیح نہیں ہے کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو چھوڑ کر پھر بالکل لامذہب ہی رہے کیا باوا صاحب اس قدر بھی نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خدا کہ جس نے نوع انسان کو اس کی جسمانی محافظت کے لئے سلاطین کی قہری حکومتوں کے نیچے داخل کر دیا۔ اس نے روحانی بلاؤں سے بچانے کے لئے جو انسان کی فطرت کو لگی ہوئی ہیں کوئی قانون اپنی طرف سے ضرور بھیجا ہوگا۔ آڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ باوا صاحب واحد خدا پر یقین رکھتے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ یقین ان کو کیونکر اور کس راہ سے حاصل ہوا اگر کہو کہ صرف عقل اور فہم سے سو واضح ہو کہ یہ بات ہزارہا