روؔ ضہ کی دیوار جنوبی میں ایک مکان محراب دار دروازہ کی شکل پر بنا ہوا ہے۔ اس پر یااللّٰہ کا لفظ لکھا ہوا ہے اور ساتھ اس کے ایک پنجہ بنا ہوا ہے اس شکل پریااللّٰہ ۔ اس جگہ کے ہندو مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یہ لفظ یا اللہ کا باوا صاحب نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور پنجہ کی شکل بھی اپنے ہاتھ سے بنائی تھی۔ دیوار کے ساتھ پائین دیوار میں ایک مکان کا یہ نشان بنا ہوا ہے۔ یہ جگہ ڈیڑھ گز قریب طول میں اور ایک گز عرض میں ہے اور یہ بات ملتان کے ہندو مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے کہ اس جگہ باوا نانک صاحب چالیس روز چلّہ میں بیٹھے تھے۔ چنانچہ ہندو لوگ اس جگہ کو متبرک سمجھ کر زیارت کرنے کو آتے ہیں اور ایسا ہی سکھ بھی زیارت کے لئے ہمیشہ آتے رہتے ہیں۔ اس روضہ کے اندرونی احاطہ میں ایک مسجد بھی واقع ہے جو نقشہ میں دکھائی گئی ہے اور وہ باوانانک صاحب کے چلّہ سے بہت قریب ہے صرف پانچ چھ کرم کا فرق ہے اور باواصاحب کا یہ مکان چلہ رو بقبلہ ہے جس میں * قبلہ کی طرف منہ کرنا چلہ کش کا اصل مقصود پایا جاتا ہے اور روضہ کے گرداگرد ایک مکان مسقف بنا ہوا ہے جس کو یہاں کے لوگ غلام گردش کہتے ہیں جس کا نمونہ نقشہ میں علیحدہ دکھلایا گیا ہے نانک صاحب کی جائے نشست غلام گردش کے اندر ہے جو جگہ مسقف ہے اور بحسیس شاہ صاحب رئیس ملتان سجادہ نشین شمس تبریز سبزواری کی زبانی معلوم ہوا کہ جب باوا نانک صاحب بیت اللہ شریف سے واپس تشریف لائے تو حج خانہ کعبہ سے فراغت کرتے ہی ملتان میں آئے۔ ** اور روضہ مبارک شاہ شمس تبریز صاحب پر چالیس روز * نوٹ۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کا وہ مکان چلہ جو سرسہ میں بنا ہوا ہے وہ بھی روبقبلہ ہے اور اب ہمارے اس دوست کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چلہ بھی روبقبلہ باوا صاحب نے بنایا تا نماز پڑھنے کے لئے آسانی ہو۔ اور مسجد کے قریب بنایا تا فرضی نمازیں جماعت کے ساتھ مسجد میں سہولیت سے ادا کریں- اب ان روشن ثبوتوں کے مقابل پر باوا صاحب کے اسلام سے انکار کرنا گویا دن کو رات کہنا ہے۔ م۔ غ۔ا **نوٹ۔ اللہ اللہ یہ شخص کیسا دین اسلام کی محبت میں فنا ہوگیا تھا اور خدا جوئی اور محبت الٰہی کی آگ کیسی اور کس قدر اس کے دل میں جوش زن تھی اور کس زور و شور سے اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی اور وہ کیا شے تھی جو اس کو ایسا بے آرام کر رہی تھی جو مکہ معظمہ میں مدت دراز تک رہ کر پھر نہ چاہا کہ گھر میں جاکر آرام کرے بچوں کی محبت میں مشغول ہو۔ بلکہ سیدھا ملتان میں پہنچا اور شمس تبریز کے روضہ کے قرب و جوار میں ریاضت اور مجاہدہ شروع کیا۔ چاہئے کہ ہر یک سستی کا مارا دنیا میں غرق نام کا مسلمان بلکہ مولوی اس مرد خدا کی سرگرمی کے طرف خیال کر کے عبرت پکڑے اور مرنے سے پہلے متنبہ ہو جائے کہ پھر یہ موقعہ دوسری مرتبہ ہرگز نہیں ملے گا کہ دنیا میں آوے اور خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے دل و جان سے مجاہدات کرے۔ یارو یہی چند روز ہیں جس نے سمجھنا ہو سمجھ لیوے اے سونے والو جاگو اور اگر رات ہے تو دن کا انتظار مت کرو اور اگر دن ہے تو رات کے منتظر مت رہو کہ پیچھے سے بے فائدہ رونا ہوگا اور دل کو جلا دینے والی حسرتیں کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ منہ