چلّہؔ میں بیٹھے رہے اور ان کا ورد خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے ھُوْکے نام کا وِرد تھا۔ کیونکہ شاہ شمس تبریز کا بھی یہی
وِرد تھا۔ اور اکثر وہ یہ مصرع پڑھا کرتے تھے۔
بجز یاھُوْ و یامن ھُوْ دگر چیزے نمید انم
بحسیس شاہ صاحب کا یہ بھی بیان ہے کہ باوا صاحب کا باپ مسمی بھائی کالو اور ان کا دادا مسمی بھائی
سوبھا بھی حضرت شاہ شمس تبریز صاحب کے سلسلہ کے مرید تھے اسی لئے باوا نانک صاحب بھی اسی سلسلہ میں مرید ہوئے۔ یہ تو سجادہ نشین صاحب کا بیان ہے جو ملتان کے رئیس بھی ہیں۔ مگر
اس کے مطابق ہی سید حامد شاہ صاحب گردیزی رئیس ملتان اور خلیفہ عبدالرحیم صاحب جو خاص مجاور روضہ موصوفہ کے ہیں گواہی دیتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ یہ ایک مشہور واقعہ متواتر
روایتوں سے چلا آتا ہے اور عام اور خاص اور ہندو اور مسلمان اس پر متفق ہیں کہ روضہ موصوفہ کے ساتھ باوانانک صاحب نے ایک خلوت خانہ بنا کر چالیس روز تک اس میں چلہ کیا تھا اور جو دیوار
پر یا اللہ کا لفظ لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ اور ساتھ اس کے ایک پنجہ ہاتھ کی شکل پر بنایا ہوا ہے۔ یہ دونوں یادگار بھی باوا نانک صاحب کے ہی ہاتھ کی ہیں۔ لہٰذا ہندو لوگ باوا صاحب کی تحریر اور
نشان کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ یہ واقعات ہیں جو موقعہ کی تحقیقات سے معلوم ہوئے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ باوا نانک صاحب کے اس جگہ چلّہ بیٹھنے اور یا اللہ کا لفظ لکھنے اور اس جگہ
پنجہ کی شکل بنانے میں ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کو اتفاق ہے۔
* نوٹ۔ ڈاکٹر ٹرمسپ کا یہ قول کہ یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ نانک مکہ میں بھی گیا ہو سراسر قلت تدبر اور کم
سوچنے کی وجہ سے ہے جس حالت میں ڈاکٹر صاحب خود گرنتھ کے ترجمہ میں باوا نانک صاحب کا یہ قول لکھ چکے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ بجز شفاعت محمد مصطفٰیصلی اللہ علیہ و سلم کوئی
شخص نجات نہیں پائے گا تو ایسے صدق اور اعتقاد کے آدمی پر یہ بدظنی کرنا کہ ان کا مکہ میں جانا ایک موضوع قصہ معلوم ہوتا ہے صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ نامعقول زوائد جو ساتھ لگائے گئے ہیں وہ
بیشک سراسر افترا ہے اور حج کے لئے مکہ میں باوا صاحب کا جانا چشتی خاندان کے صوفیاء میں سینہ بسینہ روایت چلی آتی ہے۔ چنانچہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے بلکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
باوا صاحب دو برس برابر مکہ معظمہ میں رہے اور مکہ معظمہ کی طرف انہوں نے دو سفر کئے اور دو حج کئے۔ پس ثابت شدہ باتیں کیونکر ُ چھپ سکتی ہیں۔ م۔غ۔ا ۔