ہوؔ تی ہے جس میں خدا تعالیٰ کے پیارے بندے سوئے ہوئے ہیں سو اسی غرض سے انہوں نے ان کی خانقاہ کے پاس عبادت
کے لئے اپنا خلوت خانہ بنایا۔ ہم نے جو اپنے ایک مخلص ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب کو موقعہ پر تحقیقات کرنے کی غرض سے بھیجا تو انہوں نے کامل تحقیقات کر کے کاغذات متعلقہ تحقیقات
جو نہایت تشفی بخش تھے ہماری طرف روانہ کئے چنانچہ ان میں سے ایک موقعہ چلہ کا نقشہ ہے جو اس رسالہ کے ساتھ شامل کیا گیا۔ جس کو منشی بختاور سنگھ صاحب سب اوورسیر نے بہت
تحقیق کے ساتھ طیار کیا کاغذات آمدہ سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ باوا نانک صاحب نے بعض اور مشاہیر بزرگان اسلام کی خانقاہوں پر بھی چلہ کیا ہے چنانچہ ایک چلہ حضرت معین الدّ ین صاحب
چشتی کی خانقاہ پر بمقام اجمیر کیا اور ایک چلہ بمقام پاک پتن اور ایک چلہ بمقام ملتان لیکن چونکہ وقت تنگ تھا اس لئے ہم نے صرف چلہ سرسہ اور چلہ ملتان پر کفایت کی سو سرسہ کے چلہ کی
کیفیت تو ہم بیان کر چکے اور نقشہ بھی اس رسالہ کے ساتھ آویزاں ہے۔* مگر ملتان کے چلہ کی کیفیت بتفصیل ذیل ہے۔
ملتان کے چلّہ کی کیفیت
میں نے اپنے ایک معزز دوست کو جو ایسے
امور کی تحقیقات کیلئے ایک طبعی جوش رکھتے تھے اس بات کیلئے تکلیف دی کہ وہ ملتان میں جاکر برسر موقعہ یہ تحقیقات کریں کہ درحقیقت باوا نانک صاحب نے ملتان میں کوئی چلہ کیا ہے یا نہیں
چنانچہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ان کا خط معہ نقشہ موقعہ کے بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا جسکی اصل عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے۔
بحضرت جناب مسیح موعود مہدی زمان مرزا صاحب دام
برکاتہٗ
بعد سلام نیاز کے گذارش ہے کہ سرفراز نامہ حضور کا شرف صدور لاکر باعث سعادت دارین ہوا۔ کمترین برائے تعمیل ارشاد ۲۷ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ملتان میں پہنچا۔ عندالتحقیقات معلوم
ہوا کہ باوا نانک صاحب نے روضہ مبارک حضرت شاہ شمس تبریز پر چالیس روز تک چلہ کیا تھا۔ نقشہ روضہ شامل عریضہ ہذا ارسال ہے نقشہ میں دکھایا گیا ہے کہ روضہ کے جانب جنوب میں وہ
مکان ہے جو چلہ نانک کہلاتا ہے