کے ؔ کل اشعار کی نسبت یہ ثبوت دوں کہ درحقیقت ہریک عمدہ مضمون انہوں نے قرآن شریف سے ہی لیا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس کو اپنا اعتقاد ٹھہرا دیا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سکھ صاحبوں نے کبھی پوری توجہ باوا نانک صاحب کے قول اور فعل پر غور کرنے کے لئے نہیں کی ورنہ میں کیونکر یقین کروں کہ اگر وہ ایک محیط اور گہری نظر ان کے افعال اور اقوال اور طرز زندگی پر کرتے اور ان کی تمام قوتوں اور فعلوں کو یکجائی نظر سے دیکھتے تو پھر اس نتیجہ تک نہ پہنچتے جس تک خدا تعالیٰ نے مجھے پہنچایا۔ مگر اب مجھے امید ہے کہ میری کتاب کی تحریک سے بہت ایسے لوگ جو شریف اور پاک دل ہیں ان تمام سچائیوں سے فائدہ اٹھائیں گے جو میں نے اس کتاب میں لکھی ہیں اور اگر میری ان تحریروں سے ایک نیک دل انسان بھی اپنے تئیں ان غلطیوں سے بچا لے گا جن میں وہ مبتلا تھا تو میں اس کا اجر پاؤں گا۔ باوا نانک صاحب کی اسلام پر دوسری دلیل انکے وہ چلّے ہیں جو انہوں نے اسلام کے مشہور اولیاء اور صلحاء کی مقابر پر بغرض استفاضہ کئے تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ باوا صاحب نے بمقام سرسہ شاہ عبدالشکور صاحب کی خانقاہ پر چالیس۴۰ دن تک ایک چلہ کیا جیسا کہ صلحاء مسلمانوں کا طریق ہے مسجد کے قریب ایک خلوت خانہ بنا کر اس میں نماز نوافل پڑھتے رہے اور فرائض پنجگانہ جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرتے رہے اور اسی غرض سے انہوں نے اپنا خلوت خانہ روبقبلہ بنایا تا وہ مسجد البیت کی طرح ہو جاوے۔ اب اس خلوت خانہ کا نام چلہ باوا نانک کر کے مشہور ہے اور پنجاب اور سندھ وغیرہ سے سکھ صاحبان اس چلہ کی زیارت کرنے کے لئے گروہ در گروہ آتے ہیں۔ اور بہت کچھ روپیہ چڑھاتے ہیں اور وہ روپیہ ان مجاور مسلمانوں کو ملتا ہے جو شاہ عبدالشکور صاحب کی خانقاہ پر مقرر ہیں کیونکہ باوا صاحب نے یہ چلہ اس خانقاہ کے قریب اس غرض سے کیا کہ باوا صاحب کو شاہ عبدالشکور صاحب کے کامل ولی ہونے پر نہایت اعتقاد تھا اور وہ جانتے تھے کہ اولیاء کے مقامات کے قریب خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ اور وہ زمین نہایت مبارک