یہ ثبوؔ ت کافی ہے کہ وہ نہ صرف معقولی طریق کے برخلاف ہیں۔ بلکہ واقعات صحیحہ کے بھی مخالف ہیں۔ اب ان کو سچ وہی سمجھے کہ نرا پاگل ہو جائے کاش اگر ایسے جھوٹ ملانے والوں کو کچھ تاریخ دانی سے بھی حصہ ہوتا تو ایسا سفید جھوٹ بولنے سے شرم کرتے۔ بابا نانک صاحب کا قارون سے ملاقات کرنا باوا فرید شکر گنج سے ملنا کیسی قابل ہنسی باتیں ہیں جو جنم ساکھیوں میں لکھی گئی ہیں تمام لوگ جانتے ہیں کہ قارون تو حضرت موسیٰ کے وقت میں ایک بخیل دولتمند تھا جس کو فوت ہوئے تین ہزار برس سے بھی زیادہ مدت گذر گئی اس کی ملاقات بابا نانک صاحب سے کیونکر ہوگئی اور باوا فرید صاحب دو سو برس باوا نانک صاحب کے وجود سے پہلے دنیا سے گذر گئے۔ ان سے ملاقات ہونے کے کیا معنی یہ تمام امور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ان جنم ساکھیوں میں حق کے چھپانے اور تعریف میں مبالغہ کرنے کے لئے بہت ناجائز افترا کئے گئے ہیں۔ منہ