لقبؔ دیا اور ایسا ہونا ممکن نہ تھا جب تک باوا نانک صاحب ان ملکوں میں اپنا اسلام ظاہر نہ کرتے اب حاصل کلام یہ ہے کہ یہ چولہ جو کابلی مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے باوا نانک صاحب کی طرز زندگی اور ان کی ملت و مشرب کا پتہ لگانے کے لئے ایسا عمدہ ثبوت ہے کہ اس سے بہتر ملنا مشکل ہے میں نے اس ثبوت میں بہت غور کی اور بہت دنوں تک اس کو سوچتا رہا آخر مجھے معلوم ہوا کہ باوا صاحب کے اندرونی حالات کے دریافت کرنے کے لئے یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جس پر سکھ صاحبوں کو فخر کرنا چاہئے بلاشبہ اُنہیں لازم ہے کہ اگر باوا نانک صاحب سے اُنہیں سچی محبت ہے تو اِس بزرگ چولہ کو تحقیر کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کو سرمایہ افتخار سمجھیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گرنتھ ایک زمانہ دراز یعنی دو سو برس کے بعد جمع کیا گیا ہے اور گرنتھ دانوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ اس میں بہت سے اشعار باوا صاحب کی طرف منسوب کر دئیے گئے حالانکہ وہ اشعار دراصل ان کی طرف سے نہیں ہیں اس صورت میں گرنتھ موجودہ باوا صاحب کی قطعی اور یقینی سوانح پیش کرنے کے وقت حجت قاطعہ کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا ہاں یہ شرف اور منزلت چولہ صاحب کو حاصل ہے کہ جو نہ دو ۲۰۰سو برس بعد بلکہ نانک صاحب کے ہاتھ سے ہی ان کے جانشینوں کو ملا اور تاریخی تواتر سے اب تک نہایت عزت کے ساتھ محفوظ رہا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض سکھ صاحبان میری اس تحریر سے ناخوش ہیں بلکہ سخت ناراض ہیں کہ کیوں باوا نانک صاحب کو مسلمان قرار دیا گیا ہے لیکن مجھے نہایت شبہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے بھی ہوں کہ میں نے کن دلائل سے باوا صاحب کو مسلمان یقین کیا ہے انہیں معلوم ہو کہ میں نے باوا صاحب کو مسلمان نہیں ٹھہرایا بلکہ اُنہیں کے پاک افعال اور اقوال ہریک منصف کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں جو میں نے ظاہر کی یوں تو سکھ صاحبوں سے ہندو صاحب تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے پنڈت بھی اس قدر ہیں کہ شاید سکھ صاحبوں کی کل مردم شماری بھی اس قدر نہ ہو مگر میں نے کسی کی نسبت یہ رائے ظاہر نہیں کی کہ فلاں پنڈت درپردہ مسلمان تھا۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ درحقیقت وہ دشمن دین ہیں اور وہ راست بازی جس کو ہم اسلام سے تعبیر کرتے ہیں اس کا ہزارم حصہ بھی