جھوؔ ٹ لکھ دینا ایک ایسی جرأت ہے جس پر لاکھوں انسانوں کا اتفاق کرلینا خلاف قیاس ہے۔ ماسوا اس کے بابا نانک صاحب کا
حج کے لئے جانا صرف سکھوں کی کتابوں سے ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ چشتی خاندان کے بہت سے ثقہ لوگ ابتک سینہ بہ سینہ یہ روایت کرتے آئے ہیں کہ بابا نانک صاحب ضرور حج کے لئے مکہ
میں گئے تھے پس اتنا بڑا واقعہ جو سکھوں اور مسلمانوں میں متفق علیہ ہے کیونکر یک لخت جھوٹ ہو سکتا ہے ہاں جو زواید ملائے گئے ہیں جو نہ صرف اسلامی روایتوں کے مخالف بلکہ عقل اور
قیاس اور تاریخ کے بھی مخالف ہیں وہ بے شک افتراء اور جھوٹ ہے بہتر ہو کہ اب بھی سکھ صاحبان جنم ساکھیوں میں سے ان بے جا زواید کو نکال دیں کیونکہ یہ نامعقول اور پرتعصب قصے واقعات
صحیحہ کو ایک کلنک کی طرح لگے ہوئے ہیں اور اب وہ زمانہ نہیں کہ کوئی زیرک ان کو قبول کرے اگر ایسے قصے ہندوؤں کے تیرتھوں اور مقامات متبرکہ اور درباروں کی نسبت کوئی مسلمان پیش
کرتا تو کیا بجز دل دکھانے کے اس کا کوئی اور نتیجہ بھی ہوتا جبکہ معقول باتیں بھی عدالتوں میں بجز تسلّی بخش ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ہوتیں تو ایسی بیہودہ اور نامعقول باتیں جو تاریخی ثبوتوں
کے بھی مخالف ہیں کیونکر اور کس طرح قبول ہو سکتی ہیں۔
پھر اسی بھائی گورداس کی واران میں ہے کہ بابا نانک جب بغداد میں گیا تو شہر میں جاکر باہر اپنا ڈیرہ لگایا اور دوسرا شخص بابا کے
ساتھ بھائی مردانہ تھا۔ جاکر بانگ دی اور نماز کو ادا کیا دیکھو واراں گورداس صفحہ ۱۳ مطبوعہ مطبع مصطفائی لاہور سم ۱۹۴۷ پھر اس میں اور جنم ساکھی بھائی منی سنگھ میں لکھا ہے کہ بغداد میں
بابا صاحب کی ملاقات پیر دستگیر محی الدین یعنی سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور بہت گفتگو ہوئی۔ دیکھو جنم ساکھی بھائی منی سنگھ صفحہ ۴۲۶ مطبوعہ مطبع مصطفائی سم ۱۹۴۷
۔
اب ناظرین خود سوچ لیں کہ بابا نانک صاحب تو سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے سے چار سو برس بعد ہوئے ہیں پھر کیسے سیّد موصوف سے بابا صاحب کی ملاقات ہوگئی۔ یہ
کس قدر بیہودہ جھوٹ ہے غرض ان تمام افتراؤں کو الگ کر کے اصل بات یہی ثابت ہوتی ہے کہ بابا صاحب ضرور مکہ میں حج کے لئے گئے تھے اور پھر سید عبدالقادر جیلانی کے روضہ کی زیارت
کے لئے بغداد میں بھی گئے اور جو اس پر زواید ملائے گئے ان کے بے اصل اور دروغ ہونے پر