نیوگ کے ایسے قسم کے بارے میں درج ہیں یعنی اس قسم نیوگ کے لئے جو خاوند کے زندہ اور ناقابل اولاد ہونے کی حالت میں
کرایا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
منتر انیَم اِچَّھس وَ سُوبھگے پَتِم مت رگوید منڈل ۱۰ ۔سُکت ۱۰ ۔منتر ۱۰
ترجمہ بھاش پنڈت دیانند
جب پتی سنتانوتپتّی میں اسمرتھ ہووے تب اپنی ستری کو آگیا
دیوے کہ ہے سوبھگے!
جب خاوند اولاد جنانے کے قابل نہ رہے تب اپنی بیوی کو حکم دے کہ اے بھاگوان
سوبھاگیہ کی اِچّھا کرنے ہاری ستری! تو مجھ سے دوسرے پتی کی اِچّھا کر، کیونکہ
اب مجھ سے
اولاد کی خواہش کرنے والی عورت تو مجھ سے دوسرے مرد کی درخواست کر کیونکہ اب میرے سے
سنتانوتپتّیکی آشا مت کر۔
اولاد ہونے کی امید مت رکھ
پرنتو اس وواہت
مہاشیہ پتی کی سیوا میں تتپر رہے ویسے ہی ستری بھی جب روگ آدی
لیکن اس حقیقی خاوند کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہے۔ ایسا ہی عورت بھی جب بیماری وغیرہ
دوشوں سے گرست ہو کر
سنتانوتپتّی میں اسمرتھ ہووے تب اپنے پتی کو آگیا دیوے
سببوں سے اولاد جننے کے قابل نہ رہے تب اپنے خاوند کو حکم دے
کہؔ ہے سوامی! آپ سنتانوتپتّی کی اِچّھا مجھ سے چھوڑ کے کسی
دوسری وِدھوا ستری سے
کہ اے صاحب مجھ سے آس چھوڑیں اور کسی بیوہ عورت سے
نیوگ کرکے سنتانوتپتّی کیجئے۔ جیسا کہ پانڈو راجا کی ستری کُنتی اورمادری آدی نے
نیوگ کر کے
اولاد جنالیں جیسا کہ راجہ پانڈ کی بیویوں کنتی اور مادری نے
کیا اور جیسا بیاس جی نے چترانگد اور وِچتر ویریہ کے مرجانے کے پشچات ان اپنے بھائیوں کی
کیا تھا اور جیسا کہ بیاس جی نے
چترانگد اورپچتربیرج کے مرنے کے بعد اپنے بھاوجوں کے
ستریوں سے نیوگ کرکے انبِکا میں دھرت راشٹر اور انبالکا میں پانڈو اورداسی میں
نیوگ سے بچے جنائے تھے۔