میں ضرور آفت ہوتی ہے یا پیدا ہی نہیں ہوتے یا ضعیف میت کی طرح ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ دنیا میں نہ ہزار ہا بلکہ
لاکھوں موجود ہیں اور بعض بباعث کسی ردّی قسم آتشک اور احتراق منی کے ناقابل اولاد ہو جاتے ہیں یہی قسمیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں مگر ان لوگوں کی شہوت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ بعض
صورتوں میں تو شہوت اوروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور اطبّاء اور ڈاکٹروں کے نزدیک یہ لوگ نامرد کہلاتے ہیں اور یہ بات بھی فیصلہ شدہ ہے کہ ہمارے اس ملک میں کم سے کم فیصدی ایک مرد ایسا
ہوتا ہے کہ جس کے کیڑوں میں آفت ہونے کی وجہ سے اولاد نہیں ہوتی یا ہو کر مر جاتی ہے تو اس صورت میں ہریک گاؤں اور قصبہ میں کم سے کم دو تین ہندو عورتوں کو نیوگ کی ضرورت پیش آتی
ہوگی اور شہروں میں توصدہا جوان عورتوں کا نیوگ کرانا پڑتا ہوگا اور جو صرف شہوت فرو کرنے کے لئے نیوگ ہے وہ اس سے الگ رہا۔
یہ ڈاکٹری اور طبّی تحقیقاتوں سے ثابت ہو چکا ہے جس
سے چاہیں دریافت کرلیں۔ اور کسی ایسے قصبہ یا شہر کا نشان نہیں دے سکیں گے جس میں اس قسم کے لوگ نہ پائے جائیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نیوگ جوان عورتوں کا ہی ہوگا کیونکہ پیرانہ سالی
میں تو عورت خود ناقابل اولاد ہو جاتی ہے اور جب جوان عورت کا نیوگ ہوا اور اس کا خاوند بھی جوان ہے اور قوت باہ پورے طور پر اپنے اندر رکھتا ہے بلکہ قوت کی رو سے بیرج داتا سے کچھ
زیادہؔ ہی ہے تو اس صورت میں قطع نظر اس بے حیائی اور دیوثی کے جو ایک شخص اپنے ہاتھ سے اپنی جوان عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا دے یہ رشک بھی اس کے لئے تھوڑا نہیں ہوگا کہ
وہ تمام رات شہوت کے زور سے تڑپتا رہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی جوان اور خوبصورت عورت دوسرے کے نیچے منہ کالا کراوے اور وہ دیکھے اور صبر کرے۔ میں سچ سچ کہتا
ہوں کہ اگر وہ بے غیرتی اور دیوثی کی وجہ سے ایسے بیرج داتا سے پرہیز نہیں کرے گا تو البتہ اپنے جوش شہوت کی رقابت سے اس بیرج داتا کو جوتی مار کر نکال دے گا اور آپ اس عورت سے ہم
بستر ہوگا۔
بالآخر یاد رہے کہ جن شرتیوں کا حوالہ پنڈت دیانند نے دیا ہے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت حسب ضرورت دس۱۰ مختلف مردوں سے نیوگ کرا سکتی ہے۔
اب ہم ناظرین کے
ملاحظہ کے لئے ان ُ شرتیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو ستیارتھ پرکاش میں