وِدُر کی اتپتّی کی، اتیادی اتہاس بھی اس بات میں پرمان ہیں۔۱؂ منو میں ہے ادھیا۹۔ شلوک ۷۶۔۸۱ اس باب میں پران بھی حجت ہے۔ دیکھو منو ادھیا ۹ شلوک ۷۶۔۸۱ تشریح دیکھو اس منتر میں جو رگوید کے دسویں۱۰ منڈل کا منتر ہے آریہ صاحبوں کا پرمیشر بڑی دیا اور کرپا سے ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم میں اولاد جنانے کی طاقت نہ رہے یا خود اولاد نہ ہو تو اپنی بیوی کو یہ کہہ دو کہ پتر لینے کے لئے کسی دوسرے شخص سے ہم بستر ہو یہ تو وید منتر تھا پھر اس کو پنڈت دیانند نے مثالوں سے خوب ہی سجایا ہے اور پانڈو راجا کی استریوں کا نیوگ کرانا اور راجا کے جیتے جی ان کا دوسروں سے ہم بستر ہونا خوب ہی ثابت کیا ہے۔ پھر کیا اب بھی خاوند والی استری کا نیوگ ثابت نہ ہوا۔ پرشن۔ جب ایک وواہ ہوگا ایکُ پرش کو ایک استری اور ایک استری کو ایکُ پرش رہے گا )سوال( جب ایک شادی ہوگی ایک مرد کو ایک عورت اور ایک عورت کو ایک مرد میسر آئے گا تب استری گرب وتی استہر روگنی اتہوا ُ پرش ویرگھ روگی ہو اور دونو کی ُ یو اوستھا ہو رہا نہ جائے تو اس وقت اگر عورت حاملہ یا بیمار ہو ایسے ہی یا مرد بیمار ہو اور دونوں کی عمر جوان ہو رہا نہ جائے تو پھر کیا کریں۔ پھر کیا کریں۔ )اُتّرؔ ( اس کا پریتو اتر نیوگ بشی میں دے چکے ہیں اور گربھ وتی استری سے ایک برش سماگم )جواب( اس کا جواب نیوگ میں گذرا اور اگر حاملہ عورت سے ایک سال تک جماع نہ کرنے کے سمے میں پرش وا استری سے نہ رہا جائے توکسی سے نیوگ کر کے اس کے لئے پُتّر نہ کرنے کی حالت میں مرد یا عورت سے رہا نہ جائے تو کسی سے نیوگ کرکے اولاد