کیونکہؔ اس عذر کے پیش کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں یہی رسم ہے کہ جس سے شکست کھاویں اس کو چولہ بنا کر دیا کرتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں ہو سکتا کہ ایسا چولہ پہلے کسی قاضی کے پاس موجود ہو اور باوا صاحب نے زبردستی فتح پاکر اس سے چھین لیا ہو۔ کیونکہ اس بات کو فتح سے کچھ تعلق نہیں کہ اگر کسی مذہبی مباحثہ میں کوئی غالب ہو تو وہ اس بات کا مجاز سمجھا جائے کہ کسی کا اثاث البیت یعنی گھر کا مال اپنے قبضہ میں لے آوے پھر فتح پانا بھی سراسر جھوٹ ہے۔ اگر باوا صاحب مذہبی امور میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے پھرتے اور جابجا اسلام کی تکذیب کرتے تو پھر ان کے جنازہ پر مسلمانوں کا یہ جھگڑا کیوں ہوتا کہ یہ مسلمان ہے۔ اور صدہا مسلمان جمع ہو کر ان کا جنازہ کیوں پڑھتے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص مذہبی امر میں لڑنے جھگڑنے والا ہو۔ اس کے دشمن دین ہونے میں کسی کو اشتباہ باقی نہیں رہتا۔ پھر اگر باوا صاحب حقیقت میں اسلام کے دشمن تھے تو کیوں ان کا جنازہ پڑھا گیا اور کیوں انہوں نے بخارا کے مسلمانوں کی طرف اپنی سخت بیماری کے وقت خط لکھا کہ اب میری زندگی کا اعتبار نہیں تم جلد آؤ اور میرے جنازہ میں شریک ہو جاؤ کیا کبھی کسی مسلمان نے کسی پادری یا پنڈت کے مرنے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی یا اس میں جھگڑا کیا یہ نہایت قوی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ دین اسلام کے ہرگز مکذب نہ تھے بلکہ مسلمان تھے تبھی تو علماء صلحاء ان سے محبت رکھتے تھے۔ ورنہ ایک کافر سے محبت رکھنا کسی نیک بخت کا کام نہیں چشتیہ خاندان میں اب تک باوا صاحب کے وہ اشعار زبان زد خلائق ہیں جن میں وہ اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور وہ اشعار چونکہ اکابر کے سینہ بسینہ چلے آئے ہیں اس لئے گرنتھ کے اشعار سے جو دو سو برس کے بعد عوام الناس کی زبان سے لکھے گئے بہت زیادہ معتبر اور سند پکڑنے کے لائق ہیں چنانچہ ان میں سے ایک یہ شعر ہے ؂ کلمہ کہوں تو کَلْ پڑے بن کلمہ کَلْ نا جہاں کلمہ کہو لئے سب کل کلمہ میں ما یعنی مجھے اسی میں آرام آتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہوں اور بغیر اس کے مجھے آرام نہیں آتا جہاں کلمہ کا ذکر ہو تو تمام آرام اس سے مل جاتے ہیں۔ اور یہ یقین اور بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوا صاحب ایک مدت دراز تک اسلامی ملکوں میں رہے اور تمام مسلمانوں نے ان سے محبت کی بلکہ نانک پیر ان کو