حاشیہؔ متعلق صفحہ ۵۶ ست بچن و صفحہ ۱۷۶ جلدھٰذا
اس بات کا لکھنا بھی ناظرین کیلئے فائدہ سے خالی نہیں کہ
جس قدر ہم بابا نانک صاحب کے اسلام کے بارہ میں لکھ چکے ہیں صرف اسی قدر دلائل نہیں بلکہ سکھ صاحبوں کی اور کئی پورانی کتابیں ہیں جن سے صاف صاف طور پر باوا صاحب کا اسلام ثابت ہوتا
ہے چنانچہ منجملہ ان کے بھائی گورداس صاحب کی واراں ہے جس میں صفحہ باراں میں یہ لکھا ہے۔
’’بابا )یعنی نانک صاحب( پھر مکہ میں گیا نیلے کپڑے پہن کر ولی بن کر عاصا ہاتھ میں
کتاب بغل میں )یعنی قرآن بغل میں( کوزہ اور مصلّٰی ساتھ اور بانگ دی یعنی نماز کیلئے اذان کہی اور مسجد میں جاکر بیٹھے جہاں حاجی لوگ حج گذارتے ہیں۔ دیکھو واراں بھائی گورداس مطبوعہ
مطبع مصطفائی لاہور صفحہ ۱۲ سم ۱۹۴۷ ‘‘۔
اب غور کرنا چاہئے کہ یہ طریق کہ نیلے کپڑے پہننا اور عصا ہاتھ میں لینا اور کوزہ اور مصلّٰی ساتھ رکھنا اور قرآن بغل میں لٹکانا اور خانہ
کعبہ کا قصد کر کے ہزاروں کوس کی مسافت قطع کر کے جانا اور وہاں مسجد میں جاکر قیام کرنا اور بانگ دینا کیا یہ نشان مسلمانوں کے ہیں یا ہندوؤں کے ظاہر ہے کہ مسلمان ہی حج کے لئے نیلے
کپڑے پہن کر جایا کرتے ہیں۔ عصا بھی مسلمانوں کا شعار ہے۔ اور مصلّٰی ساتھ رکھنا نمازیوں کا کام ہے۔ اور قرآن ساتھ لینا نیک بخت مسلمانوں کا طریق۔ اگر کہو کہ یہ لباس اور یہ طریق مکر اور
فریب سے اختیار کیا تھا۔ تو تم آپ ہی منصف بن کر جواب دو کہ کیا تمہارا نور قلب اور کانشنس بابا نانک صاحب کی نسبت یہ بات جائز رکھتا ہے کہ انہوں نے باوجود اس یک رنگی کے جو خدا تعالیٰ
کے لئے اختیار کی تھی پھر مکر اور فریب کے طریق کو بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور بہروپیوں کی طرح باہر سے مسلمان بن کر اور اندر سے ہندورہ کر حاجیوں کے ساتھ مل کر مکہ میں چلے گئے۔
میں اس وقت اس بات پر زور دینا نہیں چاہتا کہ یہ طریق کیسا ایک نیک انسان کے حالات کے مخالف ہے بلکہ میں کہتا ہوں۔ کہ اگر ایک معمولی چال چلن کا انسان بھی ایسی فریب کی کارروائی کرے تو
وہ بھی قابل ملامت ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان کہلا کر پھر زُنَّا ر پہن لے اور پیشانی پر قشقہ لگا کر اور بتوں کو بغل میں دبا کر جے گنگا جے گنگا۔
+ نوٹ۔ قرآن شریف کا نام کتاب بھی ہے۔ اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے۔۲