انؔ ملکوں میں علانیہ طور پر مسلمان رہا اور ایک پرہیزگار اور نیک بخت مسلمان کی طرح نماز اور روزہ کی پابندی اختیار کی یہ تو ظاہر ہے کہ ان ملکوں کے لوگ ہندوؤں سے بالطبع کراہت کرتے ہیں۔ اور ان کو کافر اور بے دین سمجھتے ہیں پھر وہ باوا صاحب کی تعظیم و تکریم بغیر ان کے ثبوت اسلام کے کیونکر کر سکتے تھے غرض بخارا کے لوگوں میں یہ واقعہ مشہورہ ہے کہ باوا نانک صاحب مسلمان تھے اور نانک صاحب کے بعض فارسی اشعار انہیں کے سنانے کے لئے بنائے گئے تھے۔ چنانچہ یہ شعر بھی انہیں میں سے ہے۔ یک عرض کردم پیش تو درگوش کن کرتار حقا کریم کبیر تو بے عیب پروردگار غرض اس بات کے ثبوت کے لئے کہ چولہ درحقیقت نانک صاحب کی طرف سے ہی ہے یہ وجوہ کافی اور شافی اور تسلی بخش ہیں کہ اسی چولہ کا ذکر انگد اور بالا کی اس جنم ساکھی میں مذکور ہے جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئی۔ پھر دوسرا ثبوت وہ کتاب ہے جو کابلی مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے جس کا نام چولہ ساکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ چولہ نانک صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا اور جتنے گرو بعد میں ہوئے ہیں سب کا اس چولہ سے برکت ڈھونڈنا اس میں مذکور ہے یہ دوسرا ثبوت اس بات پر ہے کہ چولہ خود نانک صاحب کا ہی تھا جس کی نسبت ابتدا سے یقین کیا گیا تھا کہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تیسرا ثبوت یہ ہے کہ چولہ کی تعظیم اور تکریم برابر چار سو برس سے چلی آتی ہے۔ پس یہ عملی حالت جو ہریک زمانہ میں ثابت ہوتی چلی آئی ہے جس کے ساتھ پرانے زمانہ سے میلے اور جلسے بھی ہوتے چلے آئے ہیں اور راجوں اور امیروں کا اس پر دوشالے چڑھانا ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ ثبوت بھی نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے اور پھر اس کے مقابل یہ عذر کرنا کہ دراصل باوا صاحب کو فتح کے طور پر بخارا کے قاضی سے یہ چولا ملا تھا نہایت پوچ اور لچر خیال اور کسی سخت مفتری اور متعصب اور خیانت پیشہ آدمی کا منصوبہ ہے جو بالا کی جنم ساکھی کے برخلاف ہے اور کوئی کتاب اس کے اثبات میں پیش نہیں کی گئی بلکہ انگد اور بالا صاحب کی جنم ساکھی ایسے کاذب کا منہ سیاہ کر رہی ہے اور افسوس یہ کہ باوجود اس نہایت مکروہ افتراء کے یہ مفتری طریق تحقیق کو بھی بھول گیا۔