مگرؔ جس کے دل میں محبت نہیں اسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اٹھو جلد تر لاؤ فوٹوگراف ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا فنا سب کا انجام ہے جز خدا سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہراس مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے یہی رہنما اور یہی پیر ہے یہ انگد نے خود لکھدیا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اسی حیّ و قیّوم و غفّار نے خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صفا یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم اٹھو یارو اب مت کرو راہ گم یہ نور خدا ہے خدا سے ملا ارے جلد آنکھوں سے اپنے لگا ارے لوگو تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اس پہ رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بیدرنگ وہی دین کے راہوں کی سنتا ہے بات کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات مگر دوسرے سارے ہیںُ پرعناد پیارا ہے ان کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں ان کے کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے اےُ پرغرور وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور تو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بے ہنر خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر یہ تحریر چولہ کی ہے اک زبان سنو وہ زباں سے کرے کیا بیان کہ دین خدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اس کا بد انجام ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا عدو مثل مردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا