جوؔ اس کیلئے کھوتے ہیں پاتے ہیں
جو مرتے ہیں وہ ز دہ ہو جاتے ہیں
وہی وحدہ لا شریک اور عزیز
ہیں اس کی ما د
کوئی بھی چیز
اگر جاں کروں اس کی راہ میں فدا
تو پھر بھی ہ ہو شکر اس کا ادا
میں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں
کہ ہے یہ پیارا مجھے جیسے جاں
ذرا ج م ساکھی کو پڑھ اے
جواں
کہ ا گد ے لکھا ہے اس میں عیاں
کہ قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ رقم
خدا ہی ے لکھا بہ فضل و کرم
وہ کیا ہے یہی ہے کہ اللہ ہے ایک
محمد بی اس کا پاک اور یک
بغیر اس کے
دل کی صفائی ہیں
بجز اس کے غم سے رہائی ہیں
یہ معیار ہے دیں کے تحقیق کا
کھلا فرق دجال و صدیق کا
ذرہ سوچو یارو گر انصاف ہے
یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے
یہ نانک
سے کرنے لگے جب جدا
رہے زور کر کر کے بے مدعا
کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے
یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے
بشر سے نہیں تا اوتارے بشر
خدا کا کلام اس پہ ہے جلوہ گر
دعا کی تھی اس نے کہ اے کردگار
بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار
یہ چولہ تھا اس کی دعا کا اثر
یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر
یہی چھوڑ کر وہ ولی مرگیا
نصیحت تھی مقصد
ادا کر گیا
اسے مردہ کہنا خطا ہے خطا
کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا
وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا
ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا
کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا
پیاروں کا چولا ہوا کیوںُ
برا
وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں
کہ دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں
لگاتا ہے آنکھوں سے ہوکر فدا
یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا