کہوؔ جو رضا ہو مگر سن لو بات
وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات
کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار
وہ انساں
نہیں جو نہیں حق گذار
کہو جبکہ پوچھے گا مولیٰ حساب
تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب
میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام
ذرہ غور سے اس کو سنیو تمام
کہ بیشک یہ چولہ ُ پر از نور
ہے
تمرّد وفا سے بہت دور ہے
دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر
کہ دو اُس کا اُتّر ذرا بول کر
یہی پاک چولہ رہا اک نشاں
گرو سے کہ تھا خلق پر مہربان
اسی پر دوشالے چڑھے اور
زر
یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر
یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں
عمل بد کئے ہوگئے سرنگوں
خدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں
ذرا سوچو باتوں کو ہو کر امیں
وہ صدق و محبت
وہ مہر و وفا
جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا
دکھاؤ ذرا آج اس کا اثر
اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر
گرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں
وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں
کہاں ہیں جو نانک
کے ہیں خاک پا
جو کرتے ہیں اس کے لئے جاں فدا
کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں
جو ہے واک اس کا وہی کرتے ہیں
کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اس پر نثار
جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر
کے پیار
کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق و ثبات
گرو سے ملے جیسے شیر و نبات
کہاں ہیں کہ جب اس سے کچھ پاتے ہیں
تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں
کہاں ہیں جو الفت سے سرشار
ہیں
جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں
کہاں ہیں جو وہ بخل سے دور ہیں
محبت سے نانک کی معمور ہیں
کہاں ہیں جو اس رہ میں ُ پرجوش ہیں
گرو کے تعشق میں مدہوش ہیں
کہاں ہیں
وہ نانک کے عاشق کہاں
کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں