ابھاؤ میں نیوگ کرے۔ تتھا دوسرے کے بھی مرن وا روگی ہونے کے ا ننتر تیسرے کے ساتھ کر لے۔ خواہش میں نیوگ کرے۔ ویسا ہی دوسرے مرد مرنے اور بیمار ہو جانے کے اندر تیسرے مرد کے ساتھ نیوگ اسی پرکار دشویں تک کرنے کی آگیا ہے۔ کرلے۔ اسی طرح دسویں تک نوبت پہنچا دے وید کا یہی حکم ہے۔ پرنتو ایک کال میں ایک ہی بیریہ داتا پتی رہے۔دوسرا نہیں۔ اسی پرکار پرش کے لئے بھی وواہت مگر ایک وقت میں ایک ہی بیج داتا ہو دوسرا جائز نہیں )خاوند جب چاہے صحبت کرے یہ بیرج داتا کیلئے قاعدہ ہے( اسی ستری کے مر جانے پر ودھوا کے ساتھ نیوگ کرنے کی آگیا ہے۔ اور جب وہ بھی روگی ہو وا مر طرح مرد کے واسطے بھی بیاہتا عورت کے مرجانے پر بیوہ عورت کیساتھ نیوگ کرنے کی اجازت ہے اور جب وہ بیوہ روگی ہو جائے، تو سنتانوتپتّی کے لئے دشم ستری پرینت نیوگ کر لیوے۔۱؂ جاوے یا مر جائے تو بچے جنانے کے لئے دسویں عورت تک نیوگ کرے۔ ابؔ دیکھو یہ وہی وید بھومکا ہے جس کا قادیان کے آریوں نے حوالہ دیا تھا اور جس کی بناء پر ہماری غلط بیانی ثابت کرنی چاہی تھی سو اس میں بھی خلاصہ مطلب یہی نکلا کہ نیوگ کی صورتوں میں سے ایک یہ بھی صورت ہے کہ مرد کی منی کسی بیماری کی وجہ سے قابل اولاد نہ رہے مثلاً منی پتلی پڑ جائے یا اس میں کسی قسم کا احتراق ہو جائے یا منی میں کیڑے نہ ہوں تو ان سب صورتوں میں مرد ناقابل اولاد ہوجائے گا اور واجب طور پر نیوگ کرانا پڑے گا اور اکثر الوقوع دنیا میں یہی قسم ہے کیونکہ اور قسمیں یعنی ہیجڑہ ہونا یا خصّی کئے جانا بہت نادر الوقوع ہیں کیونکہ لوگ سوچ سمجھ کر ہزار احتیاط اور تفتیش سے اپنی لڑکیوں کی شادی کرتے ہیں ہیجڑوں اور خصّیوں کو کوئی لڑکی نہیں دیتا اور پیچھے سے خصّی کئے جانا یہ ایسا شاذ و نادر ہے جو معدوم کی طرح ہے۔ آج کل کی جدید تحقیقات کی رو سے تو وہی لوگ نامرد اور ناقابل اولاد سمجھے گئے ہیں کہ گو وہ کیسی ہی قوت باہ رکھتے ہیں مگر ان کی منی میں کیڑے نہیں ہوتے اور بعض وقت بظاہر منی اچھی ہوتی ہے اور مرد جوان ہوتا ہے مگر منی اعتدال سے گر جاتی ہے اور یا ایسی صورت ہوتی ہے کہ مرد اپنی فطرت سے عقیمہ عورت کی طرح ہوتا ہے تناسل کے اعضاء درست ہوتے ہیں قوت باہ نہایت تیز ہوتی ہے مگر لڑکا لڑکی کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا ان تمام صورتوں میں منی کے کیڑوں