جوؔ عشاق اس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں وہ اس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ ہر لحظہ سو سو طرح مرتے ہیں وہ کھوتے ہیں سب کچھ بصدق و صفا مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا یہ دیوانگی عشق کا ہے نشان نہ سمجھے کوئی اس کو جز عاشقان غرض جوش الفت سے مجذوب وار یہ نانک نے چولا بنایا شعار مگر اس سے راضی ہو وہ دلستان کہ اس بن نہیں دل کو تاب و تواں خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وہ *** سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں کوئی ان کا بجز یار کے وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اسے پاتے ہیں وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں وہ ناداں جو کہتا ہے دربند ہے نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے نہیں عقل اس کو نہ کچھ غور ہے اگر وید ہے یا کوئی اور ہے یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں اگر اس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے یہ راہ زیر و زبر طلبگار ہو جائیں اس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے اگر وہ نہ بولے تو کیوں کر کوئی یقیں کر کے جانے کہ ہے مختفی وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد کوئی اس کے رہ میں نہیں نامراد مگر وید کو اس سے انکار ہے اسی سے تو بے خیر و بیکار ہے