کرؔ ے کوئی کیا ایسے طومار کو
بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو
وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر
کہ بولے نہیں
جیسے اک گنگ و کر
تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا
ذرہ سوچو اے یارو بہر خدا
وہ انکار کرتے ہیں الہام سے
کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے
یہی سالکوں کا تو تھا مدعا
اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا
اگر یہ نہیں پھر تو وہ مرگئے
کہ بیسود جاں کو فدا کر گئے
یہ ویدوں کا دعویٰ سنا ہے ابھی
کہ بعد ان کے ملہم نہ ہوگا کبھی
وہ کہتے ہیں یہ کوچہ
مسدود ہے
تلاش اس کی عارف کو بیسود ہے
وہ غافل ہیں رحماں کے اس داب سے
کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے
اگر ان کو اس رہ سے ہوتی خبر
اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے
اثر
تو انکار کو جانتے جائے شرم
یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم
نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا
اسی سے تو ملتا ہے گنج لقا
اسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش
اسی سے تو آنکھیں کھلیں
اور گوش
یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا
یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا
اسی سے ملے ان کو نازک علوم
اسی سے تو ان کی ہوئی جگ میں دھوم
خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے
وہ باتوں سے
ذات اپنی سمجھاتا ہے
کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل
تو باتوں سے لذت اٹھاتا ہے دل
کہ دلدار کی بات ہے اک غذا
مگر تو ہے منکر تجھے اس سے کیا
نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی
خبر
تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر
وہ ہے مہربان و کریم و قدیر
قسم اس کی۔ اس کی نہیں ہے نظیر
جو ہوں دل سے قربان ربّ جلیل
نہ نقصاں اٹھاویں نہ ہوویں ذلیل