وہ ؔ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو خطاوار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا کہ حاصل ہو جس رہ سے تیری رضا اسی عجز میں تھا تذلل کے ساتھ کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں خدا کا کلام اس پہ تھا بے گماں شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دین ہے اور رہنما یہ لکھا تھا اس میں بخطَِِّّ جلی کہ اللہ ہے اک اور محمدنبیصلیاللہ ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اک خطا یہ کفارہ اس کا ہے اے باوفا یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا دکھایا گیا ہو بہ حکم خدا پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا بحکم خدا پھر لکھایا گیا مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں ہیچ و بیکار ہیں تویک قطرہ داری زعقل و خرد مگر قدرتش بحربے حدّ و عدّ اگر بشنوی قصّۂِ صادقان مجنبان سر خود چو مستہزیان تو خود را خردمند فہمیدۂ مقامات مردان کجا دیدۂ غرض اس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کیساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اسے دور سے تو ملتی خبر اس کو اس نور سے جسے دور سے وہ نظر آتا تھا اسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو پختہ پیوند ہو