میںؔ عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بندۂِ درگہِ پاک ہوں میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا نشاں دے مجھے مردِ آگاہ کا نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤنگا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤنگا کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا کہ جس میں ہو اے میرے تیری رضا بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائیگا تو مجھ کو اسلام میں مگر مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے ملا تب خدا سے اسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب سنا شیخ سے ذکر راہِ صواب پھر آیا وطن کی طرف اس کے بعد ملے پیر کے فیض سے بخت سعد کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زبان چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش تعشق سے جاتے رہے اس کے ہوش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا تصور سے اس بات کے ہو کے زار کہا روکے اے میرے پروردگار ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے ترا نام غفّار و ستّار ہے بلا ریب تو حیّ و قدّ وس ہے ترے بن ہر اک راہ سالوس ہے مجھے بخش اے خالق العالمین تو سُبّوح وَ إِنّی من الظالمین میں تیرا ہوں اے میرے کرتار پاک نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک تیرے در پہ جاں میری قربان ہے محبت تیری خود مری جان ہے