وہ ؔ تھا آریہ قوم سے نیک ذات
خردمند خوش خو مبارک صفات
ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال
کہ دل میں
پڑا اس کے دیں کا خیال
اسی جستجو میں وہ رہتا مدام
کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام
اُسے وید کی راہ نہ آئی پسند
کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند
جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور
گلے
لگا ہونے دل اس کا اوپر تلے
کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام
ضلالت کی تعلیم ناپاک کام
ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم
مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم
وہ رہتا تھا اس غم سے ہر دم
اداس
زباں بند تھی دل میں سو سو ہراس
یہی فکر کھاتا اسے صبح و شام
نہ تھا کوئی ہمراز نے ہمکلام
کبھی باپ کی جبکہ پڑتی نظر
وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر
میں حیراں ہوں
تیرا یہ کیا حال ہے
وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے
نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے
کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے
مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال
کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے
میرے لال
وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے
مگر دل میں اک خواہش سیر ہے
پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار
نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ
اوتار اپنے موہنڈوں سے دنیا کا بار
طلب
میں سفر کرلیا اختیار
خدا کے لئے ہوگیا دردمند
تنعم کی راہیں نہ آئیں پسند
طلب میں چلا بیخود و بیحواس
خدا کی عنایات کی کر کے آس
جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر
غرض کیا
ہے جس سے کیا یہ سفر
کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں
نثار رہ پاک کرتار ہوں
سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا
کہ اے میرے کرتار مشکل کشا