گرنتھوؔ ں میں ہے شک کا اک احتمال کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقین وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں اسے سر پہ رکھتے تھے اہل صفا تذلل سے جب پیش آتی بلا جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا وہ چولہ کو دیکھے کہ ہے رہنما جسے اس کے مَتْ کی نہ ہووے خبر وہ دیکھے اسی چولہ کو اک نظر اسے چوم کر کرتے رو رو دعا تو ہو جاتا تھا فضل قادر خدا اسی کا تو تھا معجزانہ اثر کہ نانک بچا جس سے وقت خطر بچا آگ سے اور بچا آب سے اسی کے اثر سے نہ اسباب سے ذرہ دیکھو انگد کی تحریر کو کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما کلام خدا اس پہ ہے جابجا جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج وہ دیکھے اسے چھوڑ کر کام و کاج برس گذرے ہیں چار سو ۴۰۰ کے قریب یہ ہے نو بنواک کرامت عجیب یہ نانک سے کیوں رہ گیا اک نشاں بھلا اس میں حکمت تھی کیا درنہاں یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ بتادے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ خدا سے یہ تھا فضل اس مرد پر ہوا اس کی دردوں کا اک چارہ گر یہ مخفی امانت ہے کرتار کی یہ تھی اک کلید اس کے اسرار کی محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں سنو مجھ سے اے لوگو نانک کا حال سنو قصّۂِ قدرتِ ذوالجلال