جسؔ پر نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد۔ یہ ناپاک کلام لکھا گیا اور پھر وہ مکان بھی ناپاک ہوگیا جس میں یہ رکھا گیا اور پھر باوا
صاحب کو کیا کہیں جو ایسے ناپاک چولے کو پہنی پھرے۔ جس میں پہلی نظر میں ہی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے چاہئے تھا کہ وید کی شرتیاں لکھا کر کوئی چولہ پہنتے تا اس کی
برکت سے مکتی ہو جاتی۔ اے نالائق آریو! کیوں اس قدر باوا صاحب کی بے ادبی کر رہے ہو۔ کیا وہ گالیاں بس نہیں تھیں جو ایک نا اہل پنڈت نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں دیں کیا باوا صاحب کے لئے
کوئی بھی غیرت کرنے والا باقی نہیں رہا!!! بیشک وہ چولا اپنی ان تمام پاک آیتوں کے ساتھ جو اس پر لکھی ہوئی ہیں باوا صاحب کی ایک پاک یادگار ہے اور پاک ہے وہ مکان جس میں وہ رکھا گیا اور
پاک ہے وہ کپڑا جس پر وہ آیات لکھی گئی ہیں اور پاک تھا وہ وجود جو اس کو پہنے پھرتا تھا اور *** ہے ان پر جو اس کے برخلاف کہیں اور مبارک وہ ہیں جو چولا صاحب کے کلام سے برکت
ڈھونڈھتے ہیں۔
نظم
یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج
یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج
یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے
جو دور اِس سے اُس سے خدا دور ہے
یہی جنم ساکھی میں
مذکور ہے
جو انگد سے اس وقت مشہور ہے
اسی پر وہ آیات ہیں بیّنات
کہ جن سے ملے جاودانی حیات
یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز
خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز
اسی سے وہ
سب راز حق پاگیا
اسی سے وہ حق کی طرف آگیا
اسی نے بلا سے بچایا اسے
ہر اک بد گہر سے چھوڑایا اسے
ذرا سوچو سکھو یہ کیا چیز ہے
یہ اس مرد کے تن کا تعویذ ہے
یہ اس
بھگت کا رہ گیا اک نشاں
نصیحت کی باتیں حقیقت کی جاں