قدرؔ ت کے ہاتھ سے چولے پر لکھا ہوا تھا اور ایک بادشاہ نے چاہا کہ وہ آسمانی چولا باوا صاحب سے چھین لے مگر وہ چھین نہ سکا اور اس چولہ کی برکت سے باوا صاحب سے بڑی بڑی کرامات ظاہر ہوئیں۔ اب فرمائیے کہ انگد کے بیان کے مخالف اور کونسی معتبر کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے ذرہ اس کو پیش تو کرو اور یاد رکھو کہ باوا صاحب سچے مسلمان تھے* اور وید کو اپنے صاف بیان سے گمراہی کی کتاب ٹھہرا چکے تھے اور وہ بابرکت چولا ان کے اسلام کا گواہ تھا۔ پھر اب کیونکر اس کھلے کھلے سچ پر تاریکی کا پردہ ڈال دیا جاوے جو شخص اوسط درجہ کے ثبوت سے انکار کرے اس کا نام متعصب ہے اور جو شخص کھلے کھلے سچ سے منکر ہو بیٹھے اس کا نام بے حیا اور بے شرم ہے مگر مجھے ہرگز امید نہیں کہ سکھ صاحبوں کی طرف سے جو باوا صاحب سے سچی محبت رکھتے ہیں۔ ایسے حق پوشی کے کلمات شائع ہوں یہ تو سب کچھ آریوں کے حصہ میں آگیا۔ جنہوں نے ہٹ دھرمی کو اپنا ورثہ بنا لیا ہے۔ باوا صاحب تو ہمیشہ فتح یاب تھے۔ کتنے چولے انہوں نے اکٹھے کئے تھے۔ حیف ہے ان لوگوں کی سمجھ پر جو اب تک حقیقت سے غافل ہیں۔ چاہئے کہ ذرہ دو دن حرج کر کے ڈیرہ نانک میں چلے جائیں اور چولہ صاحب کی بچشم خود زیارت کریں۔ تا معلوم ہو کہ جس چیز کو حقیر سمجھا جاتا ہے کیا اس کی ایسی ہی تعظیم ہوتی ہے اگر کہو کہ تعظیم اس لئے ہے کہ باوا صاحب نے اس کو پہنا تھا اور باوا صاحب کے ہاتھ اس کو لگے تھے تو ایسا خیال سخت نادانی ہے کیونکہ باوا صاحب اس چولہ سے پہلے ننگے تو نہیں پھرتے تھے۔ کم سے کم اخیر زندگی تک شاید ہزاروں چولے پہنے ہوں گے پھر اگر باوا صاحب کے پوشش کے لحاظ سے یہ تعظیم ہوئی تو بجائے اس کے ان کا کوئی اور چولا محفوظ رکھنا چاہئے تھا ایسے چولہ کے رکھنے کی کیا ضرورت تھی جس سے لوگوں کو دھوکا لگتا تھا اور نیز قرآنی آیات کے لکھنے سے اس کی پاکیزگی پر داغ بھی لگ گیا تھا اور اس کے کلمہ طیبہ سے جو اس پر لکھا ہوا ہے صاف سمجھا جاتا ہے کہ باوا صاحب اس کلمہ کے مصدق ہیں اور اس پر ایمان لائے ہیں اگر وہ کلام خدا کا کلام نہ ہوتا تو چولہ اس کلام سے پلید ہو جاتا۔ کیونکہ اگر قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام نہیں اور نعوذ باللہ کسی کاذب کا کلام ہے تو بلاشبہ وہ کپڑا پاک نہ رہا