ویدبہاش بھومکا کی عبارت جو آریوں نے اپنے مطلب کے لئے ناتمام لکھی ہے صفحہ ۲۱۱ نیوگ کرنے میں ایسا نِیم ہے کہ جس ستری کا پرش واکسی پرش کی ستری مر جائے، اتھوا ان ترجمہ نیوگ کا قاعدہ یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند یا جس خاوند کی عورت مر جائے یا عورت مرد کو میں کسی پرکار کا ستھر روگ ہو جائے، وا نپُنسک بندھیادوش پڑ جائے، اور ان کی یوواوستھا ہو، کسی قسم کا مرض لاحق ہوجائے (یعنی مثلاً منی پتلی پڑجائے یا منی میں کیڑے نہ ہوں) یا ہیزی حالت یا خصی پن پیدا ہو جائے اور مرد عورت تتھاسنتانوتپتّی کی اِچھا ہو، تو اس اوستھا میں ان کا نیوگ ہونا اوشیہ چاہئے۔ جوان ہوں اور اولاد پیدا ہونے کی خواہش ہو تو اس صورت میں ان کا نیوگ ہونا واجب ہے۔ اس ؔ کا نِیم آگے لکھتے ہیں۔۱؂ صفحہ ۲۱۴۔ )ایمام( اس کا قاعدہ وید میں یوں لکھا ہے۔ ایشور منشیوں کو آگیا دیتا ہے کہ ہے اندر! پتے! اَیشور یہ یُکت ! تو اس ستری کو بیریہ دان دے کے ایشر بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اے جوان تو اس عورت کو بیج بخش کر سُپتر اور سوبھاگیہ یُکت کر۔ ہے بیریہ پرد! (دشاسیا۲؂) پُرش کے پرتی وید کی یہ آگیا اولاد اور بھاگ والی بنا۔ اے بیج ڈالنے والے جوان وید کا یہ حکم ہے کہ اس وواہت وا نیوجت ستری میں دس سنتان پَرینت اُتپنّ کر، ادھک نہیں۔ ہے کہ اس منکوحہ اور نیوگن میں دس۱۰ بچوں سے زیادہ مت کر (پتی میں۳؂) تتھا ہے ستری! تو نیوگ میں گیارہ پتی تک کر۔ ارتھات ایک تو ان میں خاوند کے بارے میں ایسا ہی عورت کو حکم ہے کہ اے عورت تو نیوگ گیاراں خصم تک کر۔ یعنی ایک تو ان میں سے پرتھم وواہت اوردش پرینت نیوگ کے پتی کر، ادھک نہیں۔ اس کی یہ ویوستھا ہے کہ وواہت پہلا بیاہ اور دس اُس کے بعد نیوگ کی خاوند اس سے زیادہ نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ خاوند پتی کے مرنے وا روگی ہونے سے دوسرے پُرش وا ستری کے ساتھ سنتانوں کے مر جانے یا اس کے بیمار ہونے سے عورت دوسرے مرد سے یا مرد دوسری عورت سے اولاد کی