نہایتؔ ہی فدا ہوگئے تھے اور وہ اس چولہ کو اسی غرض سے بطور وصیت چھوڑ گئے تھے کہ تا سب لوگ اور آنے والی نسلیں ان کی اندرونی حالت پر زندہ گواہ ہوں اور ہم نہایت افسوس کے ساتھ لکھتے ہیں کہ بعض مفتری لوگوں نے یہ کیسا جھوٹ بنا لیا کہ چولے پر سنسکرت اور شاستری لفظ اور زبور کی آیتیں بھی لکھی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ بالکل جھوٹ اور سخت مکروہ افترا پردازی ہے اور کسی شریر انسان کا کام ہے نہ بھلے مانس کا۔ ہم نے بار بار کھول کے دیکھ لیا تمام چولہ پر قرآن شریف اور کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور بعض جگہ آیات کو صرف ہندسوں میں لکھا ہوا ہے مگر زبور اور سنسکرت کا نام و نشان نہیں ہریک جگہ قرآن شریف اور اسماء الٰہی لکھے ہیں جو قرآن شریف میں ہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹ صرف اس لئے بنایا گیا کہ تا لوگ یہ سمجھ جاویں کہ چولا صاحب پر جیسا کہ قرآن شریف لکھا ہوا ہے وید بھی لکھا ہوا ہے مگر ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ *** اللہ علی الکاذبین۔ باوا صاحب تو چولے میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ بجز دین اسلام کے تمام دین جھوٹے اور باطل اور گندے ہیں۔ پھر وہ وید کی تعریف اس میں کیوں لکھنے لگے۔ چولا موجود ہے جو شخص چاہے جاکر دیکھ لے۔ اور ہم تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام دینے کے لئے طیار ہیں اگر چولہ میں کہیں وید یا اس کی شرتی کا ذکر بھی ہو یا بجز اسلام کے کسی اور دین کی بھی تعریف ہو یا بجز قرآن شریف کے کسی اور کتاب کی بھی آیتیں لکھی ہوں۔ ہاں یہ اقرار ہمیں کرنا مناسب ہے کہ چولا صاحب میں یہ صریح کرامت ہے کہ باوجودیکہ وہ ایسے شخصوں کے ہاتھ میں رہا جن کو اللہ و رسولؐ پر ایمان نہ تھا اور ایسی سلطنت کا زمانہ اس پر آیا جس میں تعصب اس قدر بڑھ گئے تھے کہ بانگ دینا بھی قتل عمد کے برابر سمجھا جاتا تھا مگر وہ ضائع نہیں ہوا۔ تمام مغلیہ سلطنت بھی اس کے وقت میں ہی ہوئی اور اسی کے وقت میں ہی نابود ہوگئی مگر وہ اب تک موجود ہے اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس پر نہ ہوتا تو ان انقلابوں کے وقت کب کا نابود ہو جاتا مقدر تھا کہ وہ ہمارے زمانہ تک رہے اور ہم اس کے ذریعہ سے باوا صاحب کی عزت کو بے جا الزاموں سے پاک کریں اور ان کا اصل مذہب لوگوں پر ظاہر کر دیں۔ سو ہم نے چولہ کو ایسے طور سے دیکھا کہ غالباً کسی نے بھی ایسا دیکھا نہیں ہوگا کیونکہ