نہ صرؔ ف ظاہری نظر سے کامل طور پر دیکھا بلکہ باطنی نظر سے بھی دیکھا اور وہ تمام پاک کلمات جو عربی میں لکھے تھے جن کو ہریک سمجھ نہیں سکتا وہ ہم نے پڑھے اور ان سے نہایت پاک نتائج نکالے سو یہ دیکھنا ہم سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ اس وقت تک چولہ باقی رہنے کی یہی حکمت تھی کہ وہ ہمارے وجود کا منتظر تھا۔ بعض لوگ انگد کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی کون انسان کہہ سکتا ہے کہ خدا کی قدرتیں صرف اتنی ہی ہیں اس سے آگے نہیں۔ ایسے کمزور اور تاریک ایمان تو ان لوگوں کے ہیں جو آج کل نیچری یا برہمو کے نام سے موسوم ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کو یہ قرآنی آیات الہامی طور پر معلوم ہوگئے ہوں اور اذن ر ّ بی سے لکھے گئے ہوں۔ لہٰذا بموجب آیت ۱؂ وہ سب فعل خدا تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو۔ کیونکہ قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے اور ہریک ربانی الہام آسمان سے ہی نازل ہوتا ہے دین اسلام درحقیقت سچا ہے اور اس کی تائید میں خدا تعالیٰ بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے اگرچہ اس غیب الغیب کا وجود اس آگ سے بھی زیادہ مخفی ہے جو پتھروں اور ہریک جسم میں پوشیدہ ہے مگر تاہم کبھی کبھی اس وجود کی دنیا پر چمکار پڑتی رہتی ہے۔ ہریک چیز میں عنصری آگ ہوتی ہے۔ مگر دلوں میں خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کی شناخت کی ایک آگ رکھی ہے۔ جب کبھی بے انتہا دردمندی کی چقماق سے وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے تو دل کی آنکھوں سے وہ غیر مرئی ذات نظر آ جاتی ہے اور نہ صرف یہی بلکہ جو لوگ اس کو سچے دل سے ڈھونڈتے ہیں اور جو روحیں ایک نہایت درجہ کی پیاس کے ساتھ اس کے آستانہ کی طرف دوڑتی ہیں۔ ان کو وہ پانی بقدر طلب ضرور پلایا جاتا ہے جس نے اپنے قیاسی اٹکلوں سے خدا تعالیٰ کو پہچانا اس نے کیا پہچانا۔ درحقیقت پہچاننے والے وہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے آپ ارادہ کر کے اپنا چہرہ ظاہر کر دیا ہے