نہاؔ یت خوشخط قلم سے لکھا ہوا تھا اور پھر اس بڈھے نے چاہا کہ کپڑے کو بند کر لے مگر پھر اس سے بھی زیادہ اصرار کیا گیا اور ہریک اصرار کرنے والا ایک معزز آدمی تھا اور ہم اس وقت غالباً بیس کے قریب آدمی ہوں گے اور بعض اسی شہر کے معزز تھے جو ہمیں ملنے آئے تھے۔ تب اس بڈھے نے ذرا سا پھر پردہ اٹھایا۔ تو ایک گوشہ نکلا جس پر موٹے قلم سے بہت جلی اور خوشخط لکھا ہوا تھا۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پھر اس بڈھے نے بند کرنا چاہا مگر فی الفور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی نے مبلغ تین روپیہ اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے جن میں سے دو روپیہ ان کے اور ا یک روپیہ مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے تھا اور شیخ صاحب پہلے اس سے بھی چار روپیہ دے چکے تھے۔ تب اس بڈھے نے ذرہ اور پردہ اٹھایا۔ یک دفعہ ہماری نظر ایک کنارہ پر جا پڑی جہاں لکھا ہوا تھا انّ الدّین عنداللّٰہ الاسلام یعنی سچا دین اسلام ہی ہے اور کوئی نہیں۔ پھر اس بڈھے میں کچھ قبض خاطر پیدا ہوگئی تب پھر شیخ صاحب نے فی الفور دو روپیہ اور اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے یہ دو روپیہ اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کی طرف سے تھے اور پھر اس کے خوش کرنے کے لئے شیخ صاحب نے چار روپیہ اور اپنی طرف سے دیدئیے اور ایک روپیہ اور ہمارے ایک اور مخلص کی طرف سے دیا۔ تب یہ چودان روپیہ پاکر وہ بڈھا خوش ہوگیا اور ہم بے تکلف دیکھنے لگے۔ یہاں تک کہ کئی پردے اپنے ہاتھ سے بھی اٹھا دئیے۔ دیکھتے دیکھتے ایک جگہ یہ لکھا ہوا نکل آیا اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ۔ پھر شیخ رحمۃ اللہ صاحب نے اتفاقاً دیکھا کہ چولہ کے اندر کچھ گردوغبار سا پڑا ہے۔ انہوں نے تب بڈھے کو کہا کہ چولہ کو اس گرد سے صاف کرنا چاہئے لاؤ ہم ہی صاف کر دیتے ہیں یہ کہہ کر باقی تہیں بھی اٹھادیں۔ اور ثابت ہوگیا ہے کہ تمام قرآن ہی لکھا ہے اور کچھ نہیں۔ کسی جگہ سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے اور کسی جگہ سورۃ اخلاص اور کسی جگہ قرآن شریف کی یہ تعریف تھی کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اس کو ناپاک لوگ ہاتھ نہ لگاویں۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے باوا صاحب کا ایسا سینہ کھول دیا تھا کہ اللہ رسول کے عاشق زار ہوگئے تھے۔ غرض باوا صاحب کے اس چولہ سے نہایت قوی روشنی اس بات پر پڑتی ہے کہ وہ دین اسلام پر