ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹا الزام لگا کر ہمارا دل دکھایا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اب ان باتوں کا ایک جوڈیشل تحقیقات کی طرح فیصلہ ہو جاوے کہ درحقیقت کون غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے ؂ ندارد کسی باتو ناگفتہ کار ولیکن چو گفتی دلیلش بیار اسؔ لئے ہم اس رسالہ کے ساتھ ایک سو ۱۰۰ روپیہ کا اشتہار بھی دیتے ہیں کہ اگر یہ بات خلاف نکلے کہ پنڈت دیانند نے وید کے حوالہ سے نہ صرف بیوہ کا غیر سے بغیر نکاح کے ہم بستر ہونا ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے۔ بلکہ عمدہ عمدہ وید کی شرتیاں کا حوالہ دے کر اس قسم کے نیوگ کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ خاوند والی عورت اولاد کے لئے غیر سے نطفہ لیوے اور غیر اس سے اس مدت تک بخوشی ہم بستر ہوتا رہے جب تک کہ چند لڑکے پیدا نہ ہو لیں تو ہم اس بیان کے خلاف واقعہ نکلنے کی صورت میں نقد 3سو روپیہ اشتہار جاری کرنے والوں کو دیدیں گے۔ اور اس وقت وہ گالیاں جو اشتہار میں لکھی ہیں ہمارے حق میں راست آئیں گی۔ اگر روپیہ ملنے میں شک ہو تو ان چاروں صاحبوں میں سے جو شخص چاہے باضابطہ رسید دینے کے بعد وہ روپیہ اپنے پاس جمع کرالے اور ہر طرح سے تسلی کرلیں اور ہمیں یہ ثبوت دیں کہ خاوند والی عورت کا نیوگ جائز نہیں۔ اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے سے ایک ماہ کے عرصہ میں جواب نہ دیں تو ان کی ہٹ دھرمی ثابت ہوگی اور ثابت ہوگا کہ درحقیقت وہ لوگ آپ ہی خبیث النفس اور قدیمی متعصب اور غلط بیان ہیں جو کسی طرح ناپاکی کے راہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اے منصفو تم خود سوچو کہ ہم اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے صدق کی اور کونسی علامت ہوگی کہ ہم اپنی سچائی کے ثابت کرنے کے لئے نقد 3سو روپیہ ان کو دیتے ہیں اور ان کے پاس جمع کراتے ہیں اب ثابت ہو جائے گا کہ خبیث النفس اور متعصب اور سچ سے منہ پھیرنے والا کون ہے یہی تحریر ہماری بجائے اشتہار کے ہے۔ اب اول ہم وید بھومکا سے وہ مقام ناظرین کو دکھاتے ہیں جس کی طرف ان آریوں نے پناہ لینا چاہا ہے تا ہریک منصف کو معلوم ہو کہ حق پوشی کی غرض سے کہاں کہاں یہ لوگ بھاگتے پھرتے ہیں اور آخر وہی بات نکلتی ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں۔