کرؔ تے ہیں اور ہم تسلیم کرلیں گے کہ شایدکسی مسلمان نے موقعہ پاکر گرنتھ میں داخل کر دئیے ہیں لیکن اگر دلائل قاطعہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب نے اسلام کے عقائد قبول کر لئے تھے اور وید پر ان کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑے ہیں جعلی اور الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا ان کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں- کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔ پس بڑی بے ادبی ہوگی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ باوا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاضیوں مفتیوں کو بھی اپنے اشعار میں سرزنش کی ہو جنہوں نے اس حق اور حقیقت کو چھوڑ دیا جس کی طرف خدا تعالیٰ کا کلام بلاتا ہے اور محص رسم اور عادت کے پابند ہوگئے چنانچہ قرآن شریف اور حدیث میں بھی ہے کہ ایسے نمازیوں پر لعنتیں ہیں جن میں صدق اور اخلاص نہیں اور ایسے روزے نری فاقہ کشی ہے جن میں گناہ ترک کرنے کا روزہ نہیں۔ سو تعجب نہیں کہ غافل مسلمانوں کے سمجھانے کے لئے اور اس غرض سے کہ وہ رسم اور عادت سے آگے قدم بڑھا ویں باوا صاحب نے بعض بے عمل مولویوں اور قاضیوں کو نصیحت کی ہو۔ اب ہم کھول کر لکھتے ہیں کہ ہماری رائے باوا نانک صاحب کی نسبت یہ ہے۔ کہ بلاشبہ وہ سچے مسلمان تھے اور یقیناً وہ وید سے بیزار ہو کر اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے مشرف ہو کر اس نئی زندگی کو پا چکے تھے جو بغیر خدائے تعالیٰ کے پاک رسول کی پیروی کے کسی کو نہیں مل سکتی۔ وہ ہندوؤں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے اور پوشیدہ ہی چلے گئے اور اس کے دلائل ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔