کےؔ رنگ میں ہیں اس لئے انہوں نے باوا صاحب کے اشعار میں اپنی طرف سے اشعار ملا دئیے۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان اشعار میں تناقض پیدا ہوگیا۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔ رہا یہ فیصلہ کہ ہم کیونکر ان تمام اشعار میں سے کھرے کھوٹے میں فرق کر سکیں اور کیونکر سمجھیں کہ ان میں سے یہ یہ اشعار باوا صاحب کے منہ سے نکلے ہیں اور یہ یہ اشعار جو ان پہلے شعروں کی نقیض پڑے ہیں وہ کسی اور نے باوا صاحب کی طرف منسوب کر دئیے ہیں۔ تو واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہایت آسان ہے چنانچہ طریق فیصلہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل پر غور اور انصاف سے نظر ڈالی جاوے جو باوا صاحب کے مسلمان ہو جانے پر ناطق ہیں سو بعد غور اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور دراصل باوا صاحب ہندو ہی تھے اور وید کو مانتے تھے۔ اور اپنی عملی صورت میں انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا بلکہ اسلام کی عداوت ظاہر کی تو اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ جو کچھ باوا صاحب کی نسبت مسلمانوں کا یہ پرانا خیال چلا آتا ہے کہ درحقیقت وہ مسلمان ہی تھے اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کیا تھا۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے اور اس صورت میں وہ تمام اشعار الحاقی مانے جائیں گے جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت یہ فیصلہ لکھا ہے چاہئے کہ کوئی جلدی سے انکار نہ کرے یہی سچ ہے اور ماننا پڑے گا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ صوفی لوگ اسی زندگی میں ایک قسم کے اواگون کے قائل ہیں۔ اور ہریک آن کو وہ ایک عالم سمجھتے ہیں اور نیز کہتے ہیں کہ انسان جب تک کمال تک نہیں پہنچتا وہ طرح طرح کے حیوانوں سے مشابہ ہوتا ہے اسی لئے اہل کشف کبھی انسان کو کتے کی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھرد وسرے وقت میں بیل کی صورت پر اس کو پاتے ہیں۔ ایسا ہی صدہا صورتیں بدلتی رہتی ہیں اور مدت کے بعد انسان بنتا ہے تب جنموں کی بہانسے ٹوٹتی ہے۔ پس کیا تعجب کہ باوا صاحب کی بھی یہی مراد ہو ورنہ آریوں کے تناسخ سے باوا صاحب صریح منکر ہیں۔ منہ