دلیلؔ اول۔ باوا نانک صاحب کا وصیت نامہ جو سکھوں میں چولا صاحب کر کے مشہور ہے یہ وصیت نامہ جس کو سکھ لوگ چولا صاحب کے نام سے موسوم کرتے ہیں بمقام ڈیرہ نانک جو ضلع گورداسپور پنجاب میں واقع ہے اس مکان گوردوارہ میں نہایت اعزاز اور اکرام سے رکھا ہوا ہے۔ جس کو کابلی مل کی اولاد نے جو باوا صاحب کے نسل میں سے تھا خاص اس تبرک کے لئے بنوایا ہے اور پہلا مکان جو چولا صاحب کے لئے بنوایا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس پر کئی ہزار روپیہ سے کچھ زیادہ خرچ آیا تھا۔ غرض یہ چولا صاحب اس قدر عزت سے رکھا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھ کر اس سے متصور نہیں اور یہ ایک سوتی کپڑا ہے جو کچھ خاکی رنگ اور بعض بعض کناروں پر کچھ سرخی نما* بھی ہے۔ سکھوں کی جنم ساکھی* کا یہ بیان ہے کہ اس میں تیس۳۰ سیپارہ قرآن شریف کے لکھے ہوئے ہیں۔ اور نیز وہ تمام اسماء الٰہی بھی اس میں مکتوب ہیں جو قرآن کریم میں ہیں۔ اور سکھوں میں یہ امر ایک متفق علیہ واقعہ کی طرح مانا گیا ہے کہ یہ چولا صاحب جس پر قرآن شریف لکھا ہوا ہے۔ آسمان سے باوا صاحب کے لئے اترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے سیا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے باوا صاحب کو پہنایا گیا۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف بھی تھا کہ اس چولا پر آسمانی کلام لکھا ہوا ہے۔ جس سے باوا صاحب نے ہدایت پائی۔ اور ہم نے ان بیانات پر پورا بھروسہ نہ کر کے خود اپنے خاص دوستوں کو اس کی پوری پوری تحقیقات کے لئے موقعہ پر بھیجا اور ان کو تاکید سے کہا کہ کسی کے کہنے پر ہرگز اعتبار نہ کریں اور خود توجہ سے اپنے آنکھ سے اس کپڑے کو دیکھیں کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ قادیان سے روانہ ہو کر ڈیرہ نانک میں پہنچے اور اس موقعہ پر گئے۔ جہاں چولا کی زیارت کے لئے ایک مندر بنایا گیا ہے اور کابلی مل کی اولاد کو ملے۔ اور وہ لوگ خاطرداری اور تواضع سے پیش آئے