ہےؔ کہ جو لوگ باوا صاحب سے بہت پیچھے آئے انہوں نے باوا صاحب کے قدم پر قدم نہیں رکھا اور انہوں نے مخلوق پرستی کی طرف دوبارہ رجوع کر دیا اور لوگوں کو دیویوں اور دیوتوں کی پرستش کے لئے رغبت دلائی اور نیز اسلام سے ان کو تعصب ہوگیا اور دوسری طرف انہوں نے یہ دیکھا کہ باوا صاحب سراسر اسلام کی تائید کئے جاتے ہیں اور تمام باتیں ان کی مسلمانوں بخش دیتا ہے پھر تناسخ کا قائل ہونا اسی شخص کا کام ہے جو پرلے درجہ کا جاہل ہو۔ جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔ اس وقت گرنتھ ہمارے پاس موجود ہے اور نہ آج سے بلکہ تیس برس سے ہم باوا صاحب کے اصل عقائد کا پتہ لگانے کیلئے جہاں تک انسانی طاقت ہے خوض کر رہے ہیں اور ہماری کامل تحقیقات نے یہی فیصلہ دیا کہ باوا صاحب رحمۃ اللہ سچے مسلمان اور ایسے صادق تھے کہ اسلام کے انوار حاصل کرنے کے لئے ساری زندگی بسر کر دی ہریک شخص اپنے منہ سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ باوا صاحب جیسا نمونہ دکھلانا مشکل ہے وہ ان میں سے تھے جن کو خدا کا ہاتھ صاف کرتا رہا ہے خدا ان کو دور سے کھینچ لایا اور پھر دور تک آگے لے گیا۔ تیس۳۰ برس کا عرصہ ہوا کہ مجھے صاف صاف مکاشفات کے ذریعہ سے ان کے حالات دریافت ہوئے تھے۔ اگر میں جزماً کہوں تو شاید غلطی ہو مگر میں نے اسی زمانہ میں ایک دفعہ عالم کشف میں ان سے ملاقات کی یا کوئی ایسی صورتیں تھیں جو ملاقات سے مشابہ تھیں چونکہ زمانہ بہت گذر گیا ہے اس لئے اصل صورت اس کشف کی میرے ذہن سے فرو ہوگئی ہے۔ غرض باوا صاحب تناسخ کے قائل ہرگز نہیں تھے اور کوئی اس بات سے دھوکا نہ کھاوے کہ ان کے بعض اشعار میں ایسے اشارات پائے جاتے ہیں کیونکہ اگر فرض کے طور پر چند اشعار پائے جائیں جن کی ہم تاویل نہ کر سکیں تو پھر ہم ان کے ان بہت سے اشعار کو جو قریباً ان کا سارا گرنتھ ہے کہاں پھینک دیں جو تناسخ کے اصولوں سے مخالف ہیں اس لئے یا تو ہم ان کی تاویل کریں گے اور یا الحاقی ماننا پڑے گا کیونکہ بزرگوں کی کلام میں تناقض روا نہیں ہم نے بہت دیکھا ہے اور تحقیق سے