ترجمہؔ اپنے اشعار میں کیا ہے۔ مگر چونکہ یہ رسالہ مختصر ہے اس لئے ہم انشاء اللہ ایک مبسوط رسالہ میں اس کا مفصل
بیان کریں گے بالفعل جس ذکر کو ہم نے ابھی چھیڑا تھا وہ یہ ہے کہ باوا صاحب کے اشعار میں کیوں اختلاف پایا جاتا ہے اور کیونکر فیصلہ کریں کہ متناقض اشعار میں سے بعض ان کی طرف سے اور
بعض دوسروں کی طرف سے ہیں۔ سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اختلاف محض اس وجہ سے
کا خالق ہے اس کی نسبت ایک سیکنڈ کیلئے بھی ہم گمان کر سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ اس گندے اعتقاد کو
پسند کرتا تھا۔ دوسر۲ی یہ کہ اواگون کے لئے شرط ہے کہ کسی کو کبھی جاودانی مکتی نہ ہو اور ہمیشہ خواہ نخواہ مقدس لوگ بھی جونوں میں پھنسے رہیں یہاں تک کہ ایک ایسا شخص بھی جو مثلاً ایک
زمانہ میں ایک بڑا اوتار ہو چکا ہے اس اعتقاد کے رو سے ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے زمانہ میں اواگون کے چکر میں آکر نجاست کا کیڑا بن جائے اور یہ اعتقاد باوا نانک صاحب کا ہرگز نہیں بلکہ
وہ تو جاودانی مکتی کے قائل ہیں۔ اور ان کا اعتقاد ایسا نہیں کہ پرمیشر ایک شخص کو قرب کی عزت دے کر اور اسی پر اس کی وفات کر کے پھر اس کو ذلیل کرے۔ تیسر۳ی یہ کہ باوا صاحب اس بات
کے قائل ہیں کہ خدا کریم اور رحیم ہے۔ اور توبہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا اور پروردگار ہے اور یہ سب باتیں اواگون کے عقیدہ کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے صرف ان کو اپنے گرنتھ
میں ہی بیان نہیں کیا بلکہ چولا صاحب میں قرآنی آیات کے حوالہ سے بار بار لکھ دیا ہے کہ خدا غفور اور رحیم اور توّّاب اور اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے۔ اور ہم باوا صاحب کے گرنتھ میں سے یہ
مقامات نہ ایک جگہ بلکہ صدہا جگہ پیش کر سکتے ہیں اور تمام عقلمند جانتے ہیں۔ اور آریوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ جو شخص یہ تینوں اسلامی عقیدے رکھتا ہو وہ ہرگز اواگون کا قائل نہیں ہو
سکتا مگر اس صورت میں کہ دیوانہ یا پرلے درجہ کا جاہل ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بے ادبی نہیں ہوگی کہ نعوذ باللہ اواگون کو باوا صاحب کا عقیدہ ٹھہرا دیا جاوے کیونکہ خدا کو
خالق مان کر اور نجات کو ابدی سمجھ کر اور یہ اعتقاد رکھ کر خدا گناہ