کہ دروغ گو کواس کے گھر تک پہنچادیں کیونکہ مکاروں اور خیانت پیشوں کی سزا واجبی یہی ہے کہ ان کے خیانت کے
طریقوں کو پوشیدہ نہ رکھا جائے اور سَتْ اور اَ سَتْ کو نکھیڑا جائے اسی غرض سے ہم نے اس رسالہ کو لکھا ہے تا غلط بیانی کے بیجا الزام کا فیصلہ ہوجائے کیونکہ یہ تین بد زبانیاں جو میری نسبت
کی گئیں اور کہا گیا کہ یہ شخص غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے یہ ایسا خباثت سے بھرا ہوا بہتان ہے کہ کوئی صادق آدمی اس پر صبر نہیں کر سکتا اور نیز اس پر خاموش رہنے
سے خلق اللہ کو ضرر پہنچتا ہے اور پبلک کو دھوکا لگتا ہے غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے کہ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت
کے لعن و طعن کی پروا رکھیں اور چونکہ ناحق ان لوگوں نے گالیاں دیکر اور بے وجہ
میرے خیال میں انسانی شرم نے ان کو اجازت نہیں دی اور جب میرے بعض مخلصوں نے انکو وہ مقام پڑھ کر
سنایا تو پھر دوسرا عذر یہ پیش ہوا کہ یہ طریق اس حالت میں ہے کہ جب خاوند ہرگز عورت کے پاس جا نہ سکے۔ پھرؔ جب کھول کر بتلایا گیا کہ ستیارتھ پرکاش میں یہ صاف لکھا ہے کہ ایسا نامرد
ہو جو ناقابل اولاد ہو پس اس میں وہ نامرد بھی داخل ہیں جو صحبت کرنے پر تو پورے قادر ہیں مگر منی قابل اولاد نہیں مثلاً منی میں کیڑے نہیں یا پتلی ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہو کہ ہرگز صحبت نہ
کر سکتا ہو بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مرد قابل اولاد ہو مگر لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تب بھی نیوگ ہوگا تو یہ جواب سن کر وہ لوگ خاموش ہوگئے اور ان میں سے ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ایسی
حالتوں میں بھی نیوگ کرانا کچھ مضائقہ نہیں اور ہم ایسے نیوگ پر راضی ہیں۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہدایت وید کی یہی ہے کہ آریہ لوگ ضرورتوں کے وقت اپنی بیویوں اور بہو بیٹیوں
سے نیوگ کرایا کریں مگر ظاہر ہے کہ انسانی کانشنس اس کو قبول نہیں کرتا اور انسان کی فطرتی حمیت اور غیرت ہزار بیزاری سے اس کام پر *** بھیجتی ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی
مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ اگر اس بارہ میں کوئی اور آریہ صاحب بھی بحث کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے ان کو ان کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں۔
اور ۱۵۔ اگست ۱۸۹۵ء تک مہلت ہے۔
راقم
۳۱ جولائی ۱۸۹۵ء از قادیان ضلع گورداسپور میرزا غلام احمد