کی آیتوں سے اپنے گرنتھ کو جمع کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی بہت تلاوت کرتے تھے۔ اکثر مساجد میں جاتے
اور صلحاء وقت سے قرآن سنتے اور پھر قرآنی مضامین کو نظم میں لکھتے تا قوم کو ایک حکمت عملی کے ساتھ کلام الٰہی سے فائدہ پہنچاویں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم اس رسالہ میں دکھلاویں کہ کس عمدہ
طور سے باوا صاحب نے جابجا قرآنی آیات کا
یعنی خدا ہی کے نور سے زمین و آسمان نکلے ہیں اور اسی کے نور کے ساتھ قائم ہیں یہی مذہب حق ہے جس سے توحید کامل ہوتی ہے اور خدا شناسی
کے وسائل میں خلل نہیں ہوتا مگر جو شخص کہتا ہے کہ خدا خالق نہیں وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا نہیں کیونکہ عام عقلیں خدا کو خدا کے کاموں سے پہچانتی ہیں پھر اگر خدا ارواح اور ذرات عالم کا
خالق نہیں تو وسائل معرفت مفقود ہو جائیں گے یا ناقص ہوکر بے فائدہ ٹھہریں گے لیکن جس نے خدا کا خالق الارواح ہونا مان لیا وہ تناسخ کے مسئلہ کو کسی طرح مان نہیں سکتا کیونکہ جس خدا نے
خالق ہونے کی حیثیت سے پہلی دنیا کو کمی بیشی کے ساتھ پیدا کیا یعنی کسی کو انسان بنایا کسی کو گھوڑا وغیرہ اور اس وقت یعنی ابتدا میں گذشتہ اعمال کا وجود نہ تھا کیونکہ خود روحیں نہ تھیں تو
پھر اعمال کہاں سے ہوتے تو اس صورت میں وہ خدا جو اپنے اختیار سے برابر مخلوقات میں کمی بیشی کرتا آیا اب کیونکر وہ اعمال کے سوا کمی بیشی نہیں کر سکتا لہٰذا جو لوگ تناسخ یعنی اواگون کو
مانتے ہیں۔ وہ جب تک تمام روحوں کو انادی اور غیر مخلوق قرار نہ دیں تب تک ممکن نہیں کہ تناسخ کا خیال بھی ان کے دلوں میں آ سکے کیونکہ جبکہ ان کا یہ مذہب ہے کہ ہریک روح اور ہریک جسم
مخلوق ہے تو اس صورت میں انہوں نے مان لیا کہ کمی بیشی خدا کے ارادہ سے ہے نہ کہ کسی گذشتہ عمل کی وجہ سے تو تناسخ جاتا رہا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ تناسخ ماننے والے کسی طرح موحد
نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا تناسخ کا مسئلہ تبھی چلتا ہے جب ذرہ ذرہ کو قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اپنے وجود کا آپ ہی خدا قرار دیدیں مگر کیا ایسا مذہب اس شخص کی طرف منسوب کر
سکتے ہیں جو توحید کے دریا میں بڑے زور سے تیر رہا ہے اور کسی چیز کا وجود بجز وسیلہ قدرت کے خودبخود نہیں سمجھتا کیا وہ بزرگ جس کے چولے پر لکھا ہوا ہے کہ خدا تمام ارواح اور تمام
موجودات